Chinese accused Saudi Arabia and Brazil of spreading the coronavirus infection globally

بیجنگ: کورونا کے باعث دنیا بھر میں اپنی بدنامی سے بچنے کے لیے چین نے اب ایک نیا حربہ اپنایا ہے۔ دنیا کو کورونا وائرس کے بحران میں جھونکنے والا چین اب اس وبا کے پھیلا و¿کا الزام برازیل سعودی عرب پر لگا رہا ہے۔ چین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس انفیکشن کی وجہ برازیل کا گائے کا گوشت، سعودی عرب کا جھینگا اور امریکہ کا مین بسٹر ہے۔

ایک رپورٹ میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ چینی میڈیا اس تھیوری کو فروغ دینے کے لیے مسلسل خبریں شائع کر رہا ہے۔پالیسی ریسرچ گروپ(پی او آر ای جی) نامی ایک عالمی تھنک ٹینک کے لیے مائیکل شلیبس نے ایسے چینی اکاؤنٹس پر تحقیق کی جو کورونا انفیکشن پر ایک خاص بیانیہ کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے پایا کہ چین کی حمایت میں پوسٹ کرنے والے سینکڑوں سوشل میڈیا اکاؤٹس سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ درآمد شدہ منجمد گوشت(فروزن میٹ) ہی کورونا وائرس کی اصل وجہ ہے۔

چینی میڈیا یہ ثابت کرنے میں دلچسپی لے رہا ہے کہ کورونا وائرس برازیلی گائے کے گوشت، سعودی جھینگا اور امریکی سور کا گوشت ہے۔سچ تو یہ ہے کہ کورونا وائرس کا پہلا کیس چین میں سامنے آیا تھا لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی ہے۔ تفتیش کار چین جا کر اس کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں لیکن بیجنگ کو یہ منظورنہیں ہے جس سے اس کا کردار مشکوک ہو جاتا ہے ۔