'Our first target is to destroy Pakistan': ISIS-K

کابل: افغانستان کے دہشت گرد گروپ دولت اسلامیہ فی العراق و الشام ، خراسان(آئی ایس آئی ایس کے) جسے داعش بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کو کھلی دھمکی دی ہے کہ اس کا حتمی ہدف نفاذ شریعت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی دنیا میں اسلام اور قرآن کے خلاف جائے گا اسے دہشت گرد گروہ کے غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔آئی ایس آئی ایس کے ایک رکن نے کہا،ہمارا پہلا ہدف پاکستان کوختم کرنا ہے کیونکہ افغانستان میں ہر معاملہ کی جڑ پاکستان ہے۔ جب طالبان یہاں تھے تو وہ کہہ رہے تھے کہ ملک کے 80 فیصد حصے پر ہمارا قبضہ ہے، لیکن وہ اسلامی حکومتیں نافذ نہیں کر رہے تھے۔آئی ایس آئی ایس کے مطابق، طالبان کے بعد سے افغانستان بد سے بدتر ہوتا چلا گیا ہے۔

آئی ایس آئی ایس کے نے طالبان اور پاکستان پر افغانستان کوختم کرنے کا الزام لگایا ہے۔ کنیوز (کے نیوز )نے اپنی رپورٹ میں نجیب اللہ کے حوالے سے کہاکہ ہم شرعی قوانین نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ، افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان کی فہرست میں مطلوب نجیب اللہ کا کہنا تھا کہ جس طرح انبیا نے زندگی گزاری، ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی اسی راستے پر چلیں۔جس طرح کپڑے پہنتے تھے، حجاب پہنا جاتا تھا، ویسا ہی رہیں۔

اس وقت ہمیں مزید لڑنا نہیں چاہیئے۔ لیکن اب میں پاکستان سے لڑنے جا رہا ہوں۔ یاد رہے کہ اس سال 15 اگست کو طالبان نے افغانستان پر مکمل قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے آئی ایس آئی ایس کے نے یہاں کئی مہلک حملے کیے ہیں۔ بعض حملوں میں طالبان کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں کئی عام شہری بھی مارے گئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ تر ارکان کا تعلق طالبان اور پڑوسی ملک پاکستان سے ہے۔ یہ تنظیم بین الاقوامی سطح پر انتہائی کٹر بتائی جاتی ہے۔ یہ تنظیم نظام خلافت کی قائل ہے اور اسی پر قائم ہے۔ رپورٹ کے مطابق نجیف اللہ بھی دوسروں کی طرح طالبان کے جھوٹے وعدوں سے تنگ آچکا تھا اور اسی وجہ سے اس نے خراسان میں شمولیت اختیار کی۔