TLP allowed to contest elections under deal

اسلام آباد:(اے یو ایس )کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی) اور حکومت پاکستان کے مذاکرات کاروں کے مطابق کئی ہفتوں سے جاری پرتشدد ٹکراو¿ ختم کرنے کے لیے فریقین میں ہوئے معاہدے کے تحت حکومت نے کالعدم تنظیم کے 2000گرفتار کارکنان کو رہا کرنا اور تنظیم کو انتخابات لڑنے کی اجازت دینا منظور کر لیا۔ ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ حکومت کے اس اقدام کے جواب میں ٹی ایل پی نے تشدد کی سیاست ختم کرنے اور ایک فرانسیسی جریدے میں پیغمبر اسلام ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر فرانس کے سفیر متعین پاکستان کو ملک بدر کرنے کا اپنا دیرینہ مطالبہ واپس لینے پر رضامندی ظاہر کردی۔اگرچہ فریقین کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تفصیل تو تاحال سامنے نہیں آئی ہے تاہم تنظیم کے ہزاروں کارکنوں کی رہائی سے بظاہر اس کی شرائط پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔

فرانس کے سفیر کی ملک سے بےدخلی اور اپنے امیر سعد رضوی کی رہائی سے لے کر کارکنوں پر درج مقدمات کی واپسی اور جماعت کو کالعدم تنظیموں کے فہرست سے نکالنے جیسے مطالبات لے کر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے والی تحریکِ لبیک اور حکومت کے درمیان دو روز قبل معاہدہ ہوا تھا۔پیر کو اس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے قائم کی گئی ا سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے اور ساتھ ساتھ عمل درآمد کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے۔ اسی دوران وفاقی کابینہ میں علی محمد خان کے ساتھی اور وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے منگل کی صبح ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’مذہبی شدت پسند گروہوں میں ہجوم کو تشدد کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت ہے لیکن ان کی سیاست میں ہلچل مچانے کی صلاحیت ہمیشہ سے محدود ہی رہی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ایک وقت تھا کہ سنی تحریک تحریکِ لبیک پاکستان سے کہیں زیادہ پ±رتشدد تھی لیکن پھر ختم ہو گئی۔ یہ جماعت بھی جلد ہی ختم ہو جائے گی۔‘

تحریکِ لبیک پاکستان کا نام لیے بغیر وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ایسی جماعت کا ساتھ دینے کا مطلب عالمی تنہائی ہے۔‘علی محمد خان نے یہ بھی کہا تھا کہ فیصلوں کے اثرات پیر کی رات سے دکھائی دینے لگیں گے۔ منگل کی صبح ٹی ایل پی کے رہنما مفتی عمیر نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹیئرنگ کمیٹی میں شامل ان کی جماعت کے ر±کن نے مطلع کیا ہے کہ حکومت نے ایک ہزار کے قریب کارکنوں کو رہا کرنے کے احکامات دیے ہیں اور ان کی رہائی کا عمل پیر کی شام سے شروع ہو جائے گا۔اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ بھی تحریک لبیک پاکستان کے تین ایم پی او کے تحت گرفتار شدہ کارکنوں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں اور اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد تنظیم کے تمام گرفتار شدہ کارکن رہا ہو جائیں گے۔تحریکِ لبیک اور حکومت کے درمیان معاہدہ تو طے پا گیا ہے لیکن بےاعتمادی اور بےیقینی کی فضا کسی حد تک برقرار دکھائی دیتی ہے۔

معاہدہ طے پا جانے کے اعلان کے باوجود نہ تو تحریک لبیک نے منگل کی سہ پہر تک لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا تھااور نہ ہی حکومت نے جی ٹی روڈ سے مکمل طور پر رکاوٹوں کو ہٹایا تھا۔ البتہ معاہدے کے اعلان کے بعد گذشتہ روز حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت بعض مقامات سے کنٹینرز کو تو ضرور ہٹایا گیا تھا لیکن انھیں لب سڑک کھڑا کر دیا گیا تھا۔ جی ٹی روڈ پر واقع کچھ پلوں کو جزوی طور پر کھولا گیا تھا تاہم گجرات میں دریائے چناب کے تینوں پلوں پر کنٹینرز بدستور موجود تھے اور گجرات پولیس نے دریائے چناب کے داخلی پل پر ناکہ بندی بھی مزید سخت کر دی تھی ۔اس جانب سے کوئی بھی شہری بغیر شناختی کارڈ دکھائے وزیر آباد میں داخل نہیں ہو سکتا تھا حتیٰ کہ عورتوں اور بزرگوں سے بھی شناختی کارڈ طلب کیے جا رہے تھے ۔