Republicans capture Virginia governorship

واشنگٹن:(اے یوایس)ریپبلکن امیدوار کی جیت امریکی صدر جو بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ 2009 کے بعد سے ریاست ورجینیا میں پہلی مرتبہ ریپبلکن پارٹی کا کوئی امیدوارگورنر کے عہدے کے لیے منتخب ہوا ہے۔ 54 سالہ گلین سیاست میں قدرے نئے ہیں تاہم انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اپنے حریف ٹیری میک لائف کو شکست دے دی ہے، جو 2014 سے 2018 تک ریاست کے گورنر رہ چکے ہیں۔ووٹوں کی گنتی شروع ہونے سے ہی یہ مقابلہ کافی سخت رہا اور دونوں امیدوار کے درمیان کانٹے کا ٹکر دیکھنے کو ملا۔مقامی میڈیا کے مطابق جب تقریباً 95 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوئی، تو اس وقت ریپبلکن امیدوار کو اپنے حریف پر لگ بھگ پونے تین فیصد کی برتری حاصل ہوگئی تھی تبھی ان کی جیت یقینی ہو گئی تھی ۔

کانگریس پر ڈیموکریٹک پارٹی کا کنٹرول پہلے سے ہی کافی محدود ہے اور اس انتخابی نتیجے سے صدر جو بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی پر، آئندہ برس ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے، کافی سخت دباؤ پڑسکتا ہے۔نتائج کی خبر آنے کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ریپبلکن رہنما گلین ینگکن نے کہا کہ ہم سب مل کر اس دولت مشترکہ کی رفتار کو بدلیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ینگکن کی جیت کے پیچھے جہاں مضافاتی ریپبلکنز کو متحرک کرنا ایک اہم امر تھا، وہیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ان انتخابات سے کافی دور رکھا گیا کیونکہ ریاست ورجینیا میں وہ کافی غیر مقبول ہیں۔انہوں نے سرکاری اسکولوں میں بائیں بازو کے خیالات کی طرف رجحان سے متعلق قدامت پسندو ں کے خدشات کا جہاں فائدہ اٹھایا وہیں اعتدال پسند رائے دہندگان کو بھی اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب رہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اسکول کی حالت فوری طور پر درست کرنے کی کوشش کریں گے۔ ”ہمارے بچے انتظار کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہم حکومت نہیں بلکہ لوگوں کے وقت کے ساتھ کام کریں گے۔”

منگل کے روز ہی امریکا کے دو سب سے بڑے شہروں میں میئر کے انتخابات کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے۔ نیویارک میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار سابق محکمہ پولیس کے افسر ایرک ایڈمز نے اپنے ریبپلکن حریف کرٹس سلوا پر آسانی سے کامیابی حاصل کر لی۔ ایرک امریکی تاریخ میں نیویارک سٹی کے دوسرے سیاہ فام میئر ہوں گے۔ایڈمز نے مین ہٹن اور بروکلین کے ترقی پسند اور اعتدال پسند ڈیموکریٹک ووٹروں تک رسائی حاصل کی اور اپنے مد مخالف امیدوار کے خلاف تو تو میں میں اور ذاتی حملوں کے بجائے، ایک اچھی انتخابی مہم پیش کی تھی۔

ادھر بوسٹن میں ایک نئی تاریخ رقم کی گئی، جہاں کونسلر مشیل ؤ شہر کی پہلی خاتون میئر منتخب ہوگئیں۔ مشیل ؤ ایشیائی نژاد امریکی ہیں جو پہلی بار اس عہدے پر فائز ہوئی ہیں۔ اپنی کامیابی کے بعد محترمہ ؤنے کہا کہ ہم تیار ہیں کہ بوسٹن اب سب کے لیے ہوگا۔ ریاست میساچوسیٹس بہت ہی آزاد اور اعتدال پسند ریاست سمجھی جاتی ہے تاہم اس کا شہر بوسٹن امریکا بھر میں بدترین عدم مساوات اور اسکولوں میں اپنے امتیازی سلوک کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔