Turkey probes 30 for Twitter posts suggesting Erdogan died

استنبول:(اے یوایس) ترکی کی پولس نے ان درجنوں افراد کے خلاف تحقیقات شروع کردیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر ترک صدر رجب طیب اروغان کی موت کی افواہ پھیلائی تھی۔ پولیس حکام کے مطابق ان افراد نے ہیش ٹیگ ’اولمس‘ کا استعمال کرتے ہوئے ٹویٹر پر غلط مواد پوسٹ کیا۔ ترک زبان میں اولمس کا مطلب موت ہے۔یہ ہیش ٹیگ جلد ہی ٹرینڈ کرنے لگا اور اس دوران صدر اردوغان کی صحت سے متعلق افواہیں گردش کرنے لگیں۔صدر اردوغان کے حامیوں نے ان افواہوں کو رد کرنے کے لیے ان کی مختلف سرگرمیوں میں شرکت کی تصاویر پوسٹ کیں۔ صدر اردوغان کے مخالف سیاستدان اکثر ان کی صحت سے متعلق سوال کرتے رہتے ہیں جبکہ گزشتہ کئی برسوں سے اس بارے میں غیر مصدقہ اطلاعات آتی رہی ہیں۔رجب طیب اردوغان کی آنت کا ایک آپریشن 2011 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد سے وہ کئی مرتبہ اس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ انھیں کینسر ہے۔ اس وقت صدر اردغان کی عمر 67 برس ہے۔

صدر اردوغان کی صحت سے متعلق تازہ قیاس آرائیوں کے بعد حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈولپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کی جانب سے صدر کی کئی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں جن میں وہ مختلف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ بدھ کو صدر نے انقرہ میں کئی تقریبات میں شرکت کی جو ان کی سیاسی جماعت کے اقتدار میں آنے کی 19ویں سالگرہ سے متعلق تھیں۔ان کی جماعت کے ایک رکن نے ٹویٹ کیا کہ ‘چیف استنبول سے انقرہ آ چکے ہیں اور وہ بالکل صحت مند ہیں۔’اس دوران صدر اردوغان کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر فرہیتن التون نے ایک چھوٹی سے ویڈیو ٹویٹ کی جس میں صدر کو اپنی گاڑی سے اترتے اور چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ لکھا ‘دوستوں کے لیے اعتماد اور دشمنوں کے لیے خوف۔’جمعرات کو صدر اردوغان کی جانب سے ان کے وکیل نے سوشل میڈیا پر صدر کی صحت سے متعلق افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ترک میڈیا کے مطابق صدر اردوغان کی صحت سے متعلق تازہ افواہوں کا سلسلہ اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد شروع ہوا جس میں وہ سنبھل سنبھل کر چلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

گزشتہ مہینے جب صدر کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں تو ان کے کمیونیکیشن آفس کی جانب سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی جس میں وہ باسکٹ بال کھیل رہے تھے۔ 2011 صدر اردغان کی آنتوں کے آپریشن کی خبر میڈیا میں آئی تھی تاہم ان کی صحت کے بارے میں کسی بھی قسم کے سرکاری بیانات شاز و نادر ہی آتے ہیں۔صدر اردوغان حال ہی میں افریقہ کا تین روزہ دورہ کر چکے ہیں جبکہ اٹلی کے شہر روم میں جی ٹوئنٹی ممالک کے سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔ تاہم انھوں نے چند روز قبل گلاسگو میں آب و ہوا میں تبدیلی کے بارے میں عالمی کانفرنس میں شرکت نہیں کی اور ان کے دفتر کی جانب سے اس کی وجہ سکیورٹی بتائی گئی۔