China to punish Taiwan independence 'diehards'

بیجنگ: تائیوان کے معاملے میں چین اب کھل کر دادا گری پر اتر آیا ہے۔ اپنی سلطنت کو وسعت دینے کے خواہشمند چین نے پہلی بار اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تائیوان کی آزادی کی حمایت کرنے والے لوگوں کو مجرمانہ الزامات کے تحت عمر قید کی سزا دے گا۔ اس کا اعلان چین کے تائیوان امور کے دفتر نے کیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ تائیوان کی وزیر اعظم سو سینگ چانگ، پارلیمنٹ کے سپیکر یو سی کن اور وزیر خارجہ جوزف وو کو تائیوان کے پرعزم حامیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیاہے۔

چین اس فہرست میں شامل افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ادھر تائیوان کے قومی سلامتی بیورو کے سربراہ چن منگ ٹونگ نے کہا کہ چین کو اپنے ملک کے مرکزی جزیرے تسائی پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ تائیوان کے انٹیلی جنس چیف چن منگ ٹونگ نے کہا کہ ان کے دور میں چین اور تائیوان کے درمیان کوئی مسلح جنگ نہیں ہوگی۔ تائیوان پر چینی فوجی حملے کے خدشے کے درمیان، چن نے کہا کہ چین کے زیر قبضہ دور دراز جزائر سمیت سمندری راستہ عبور کرکے جنگ کا کوئی امکان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تائیوان کا اپنے جزائر پر مکمل کنٹرول ہے اور مناسب حفاظتی انتظامات ہیں۔ اس دوران پینٹاگون نے اپنی رپورٹ میں تائیوان اور ہندوستان کے خلاف چین کے جارحانہ موقف پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2030 تک اس کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کی تعداد کم از کم 1000 تک پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین اپنی جوہری طاقت کو بڑھانے کے لیے ضروری انفراسٹرکچر بنا رہا ہے۔اس سے قبل پینٹاگون نے اپنی سابقہ رپورٹ میں کہا تھا کہ ایک دہائی کے اندر بیجنگ کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 400 کے قریب ہو سکتی ہے۔ چین جدید ترین ری ایکٹرز اور ری پروسیسنگ کی سہولیات بنا کر پلوٹونیم کی تیاری اور الگ کرنے کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے۔