Germany COVID-2019:Record increase in number of cases

برلن:(اے یوایس) جرمنی میں کورونا وائرس کے نئے کیسز کی یومیہ تعداد ا ریکارڈ حد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 37ہزار سے زائد نئے کیس درج کیے گئے جبکہ کوویڈ19-کے مزید ڈیڑھ سو سے زائد مریض انتقال کر گئے۔یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک جرمنی میں وبائی امراض کی روک تھام کے نگران ادارے رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ نے بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس انفیکشن کے 37 ہزار 120 نئے کیس رجسٹر کیے گئے۔اس دوران اس وائرس کی وجہ سے لگنے والے وبائی مرض کوویڈ 19- کے مزید 154 مریضوں کا انتقال بھی ہو گیا۔رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ (آر کے وائی) کے اعداد و شمار کے مطابق یہ عالمی وبا اب تک جرمنی میں مجموعی طور پر 4.7 ملین سے زائد انسانوں کو متاثر کر چکی ہے جبکہ کوویڈ 19- کی وجہ سے ہلاکتوں کی کل تعداد بھی اب 96 ہزار 346 ہو گئی ہے۔

جرمنی کو اس وقت کورونا وائرس کی وبا کی چوتھی لہر کا سامنا ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس لہر کے دوران یومیہ بنیادوں پر اتنی زیادہ نئے انفیکشنز دیکھنے میں آ رہے ہیں، جتنی گزشتہ لہروں کے دوران دیکھنے میں نہیں آئے تھے۔جرمن حکومت ہوائی کمپنی لفتھانزا کو نو بلین یورو کی امداد دے رہی ہے جرمن وزیر اقتصادیات پیٹر آلٹمائر نے واضح کیا ہے کہ مالی امداد کے باوجود حکومت کی جانب سے کمپنی کے کارپوریٹ فیصلوں میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ اب تک صرف 67 فیصد جرمن باشندوں کی مکمل ویکسینیشن ہوئی ہے اور بہت سے شہری کورونا ویکسین لگوانے میں تاحال ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔جرمن وزیر صحت ژینس اشپاہن کی سربراہی میں ملک کے تمام سولہ صوبوں کے وزرائے صحت کا ایک اجلاس ان دنوں جنوبی جرمنی میں جھیل کونسٹانس کے کنارے واقع شہر لِنڈاؤ میں جاری ہے، جس میں اس بارے میں بھی مشورے کیے جا رہے ہیں کہ ملک میں نئی انفیکشنز کی یومیہ اور ہفتہ وار اوسط کو کم سے کم کیسے کیا جائے۔

وزرائے صحت کی اس کانفرنس کے، جو جمعہ کو اختتام پذیر ہو گئی، شرکاءاب تک یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ جن شہریوں کی کورونا وائرس کے خلاف ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے، انہیں بوسٹر کے طور پر اس ویکسین کا تیسرا انجیکشن لگانے کی ملک گیر مہم جلد شروع کر دی جائے گی۔31 دسمبر 2019 کو چین میں ووہان کے طبی حکام نے باقاعدہ تصدیق کی کہ نمونیہ کی طرز کے ایک نئے وائرس کے درجنوں مریض زیر علاج ہیں۔ اس وقت تک ایسے شواہد موجود نہ تھے کہ یہ وائرس انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ چند دن بعد چینی محققین نے ایک نئے وائرس کی تصدیق کر دی۔یہ بوسٹر ویکسین ایسے افراد کو لگائی جائے گی، جن کی ویکسینیشن مکمل ہوئے چھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہو۔ لِنڈاؤکانفرنس میں طبی ماہرین کی مشاورت سے یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ بوسٹر ویکسین لگانے کے لیے بزرگ شہریوں، کمزور جسمانی مدافعتی نظام والے افراد اور طبی شعبے کے کارکنوں کو ترجیح دی جائے گی۔

وفاقی وزیر صحت ژینس اشپاہن نے کہا ہے کہ عوام کو کورونا وائرس کے خلاف مکمل تحفظ دینے کے لیے کورونا ویکسین کے بوسٹر سب کو لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بوسٹر اصولی طور پر ہر کسی کے لیے ہوں گے، نہ کہ کوئی استثنائی طبی سہولت۔“جرمنی میں نئی کورونا انفیکشنز کی تعداد میں اس وقت جو ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے، اس میں متاثرین اور شدید بیمار ہو جانے والے نئے مریضوں میں اکثریت ایسے شہریوں کی ہے، جنہوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی۔ کئی ہسپتالوں نے تنبیہ کی ہے کہ آئندہ دنوں میں انہیں اپنے ہاں کوویڈ19- کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جانے کے باعث غیر معمولی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جرمنی میں صحت کا شعبہ زیادہ تر صوبائی عمل داری میں آتا ہے اور وفاقی حکومت قومی نوعیت کے طبی معاملات میں صحت سے متعلق صوبائی پالسیوں کو قومی سطح پر زیادہ سے زیادہ مربوط ہی بنا سکتی ہے۔