Highways and sports fields in schools closed in China due to acute air pollution

بیجنگ: چین میں شدید آلودگی کے باعث حکومت کو دارالحکومت بیجنگ میں شاہراہیں اور اسکولوں کے کھیل کے میدان بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ چین نے یہ قدم کوئلے کی پیداوار کو محدود کرنے اور بین الاقوامی ماحولیات کانفرنس میں اپنے ماحولیاتی ریکارڈ پر تنقید کے بعد اٹھایا ہے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ڑنہوا کے مطابق بیجنگ کی میونسپل سطح کی حکومت نے حد سے زیادہ فضائی آلودگی کی وجہ سے یلو الرٹ جاری کیا ہے۔ الرٹ جمعرات کی شام 4 بجے سے نافذ کیا گیا تھا۔

واضح ہو کہ چین میں شدید ترین فضائی آلودگی کے حوالے سے شدید ترین وارننگ کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ یہ بالترتیب نیلے، پیلے اور اورنج میں پہلے آتا ہے۔ چین کے محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ سے ہفتہ تک بیجنگ اور گردونواح میں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہونے والی ہے۔

جمعہ کو چین کے شمالی حصے میں دھوئیں سے لدی دھند کی چادر نے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس سے مرئیت 200 میٹر سے کم ہو گئی۔اس ہفتے کے شروع میں، چین نے کہا کہ اس نے کوئلے کی باقاعدہ پیداوار میں دس لاکھ ٹن سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔ تاکہ بجلی کی کمی نہ ہو۔درحقیقت حالیہ مہینوں میں بجلی کے بحران کا سامنا کرنے والے چین کو بجلی کی فراہمی میں کمی کے باعث اپنی فیکٹریاں بند کرنا پڑیں تھیں۔

بنکاک پوسٹ کے مطابق، چین کے شہر کے حکام کے محکمہ موسمیات نے غیر معمولی موسمی حالات کی وجہ ہوا میں ا سموگ (آلودہ ہوا) کی موٹی چادر کو ذمہ دار قرار دیاہے۔ جبکہ چین کو دنیا کا سب سے بڑا گرین ہاس گیس خارج کرنے والا ملک سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ یہاں کی زیادہ تر صنعتیں کوئلے سے چلتی ہیں جس کے باعث کاربن کا اخراج اپنے عروج پر ہے۔