Human rights defenders living under “climate of fear” - OHCHR

نیویارک: افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی ماہر میری لالر نے کہا ہے کہ ملک میں انسانی حقوق کے محافظوں کے لیے خوف کا ماحول ہے اور وہ خطرات اور ملک کے حالات سے مایوسی کا شکار ہو تے جارہے ہیں۔ خطرہ بہت حقیقی ہے اور عالمی برادری کو اس معاملے میں فوری طور پر مربوط ردعمل اور مدد فراہم کرنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کی طرف سے انسانی حقوق کے محافظوں کو درپیش خطرات میں صنفی عدم مساوات، امتیازی سلوک، مار پیٹ، گرفتاریاں، جبری گمشدگی اور حقوق نسواں کے کارکنوں و محافظین کا قتل شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے دور حکومت میں انسانی حقوق کے کارکنان اور افغان عوام مسلسل خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لالر نے بتایا کہ کچھ انسانی حقوق کے محافظوں نے شناخت سے بچنے کے لیے اپنے آن لائن ڈیٹا کی تاریخ کو مٹا دیا ہے، اور طالبان ان کا سراغ لگانے کے لیے دوسرے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ان میں سے ایک کی شناخت اس کی ٹانگ پر چوٹ سے ہوئی تھی۔ ان کے مطابق طالبان نے نام، پتے اور رابطوں کی تلاش میں انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے دفاتر پر چھاپے مارے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہر نے کہا کہ بہت سے محافظ اپنی مقامی برادریوں میں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جانے جاتے ہیں، اور شہروں میں گم نامی کے لئے چلے گئے ، لیکن وہاں بھی، ان کو مسلسل نقل مکانی پر مجبور کیا جاتاہے۔ زیادہ تر لوگوں نے اپنی آمدنی کا ذریعہ بھی کھو دیا ہے ۔لالر نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے خطرے والے لوگوں کو ان کے خاندانوں کے ساتھ نکالنے کے لیے فوری منصوبے پر عمل درآمد کرنے میں مدد کریں جو زیادہ خطرے میں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو 20 سال سے ملک میں انسانی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔