Ninety-nine killed in fuel tanker blast in Sierra Leone capital

فری ٹاﺅن:(اے یو ایس ) مغربی افریقہ کے ملک سیرا لیون کے دارالحکومت فری ٹاو¿ن میں حادثے کے بعد تیل سے بھرے ہوئے ٹینکر میں ہونے والے دھماکے میں 99 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق حکومت کی طرف سے ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق تصدیق نہیں کی گئی تاہم مرکزی مردہ خانے کا کہنا ہے کہ اسے دھماکے کے بعد 90 سے زائد لاشیں موصول ہوئی ہیں۔

سیرا لیون کی نائب وزیر صحت عمارہ جمبائی کا کہنا ہے کہ ہلاکت شدگان کے علاوہ دیگر 100 زخمی علاج کے لیے دیگر اسپتالوں اور کلینکس میں زیرِ علاج ہیں۔شہر کے میئر کے یونی اکیسویر کی فیس بک پوسٹ کے مطابق زخمی ہونے والوں میں وہ افراد شامل ہیں جو کہ تباہ شدہ ٹینکر سے بہنے والا پیٹرول بوتلوں میں بھر رہے تھے بعد ازاں انہوں نے اپنی پوسٹ سے یہ معلومات حذف کر لی تھیں۔نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ ایجنسی کی سربراہ بریما بورے کا موقع سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں کہنا ہے کہ انہیں بہت سے زخمی اور جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں۔ان کے بقول یہ ایک انتہائی خوف ناک حادثہ تھا۔سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جلے ہوئے متاثرین سڑکوں پر پڑے ہیں اور آگ کی وجہ سے قریبی دکانیں اور مکان تباہ ہو گئے ہیں۔

ایک ویڈیو میں نظر آرہا ہے کہ تیل کے ٹینکر سے ایک ٹرک کی ٹکر ہوئی ہے جس کے بعد وہ دونوں گاڑیاں اسی طرح جل گئی ہیں۔افریقہ کے علاقوں میں ہونے والے ایسے حادثات میں لوگوں کی ہلاکت پہلے بھی ہو چکی ہے۔ جو کہ ٹینکر سے نکلنے والے پیٹرول کو حاصل کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور دوسرے دھماکے کا نشانہ بنتے ہیں۔ 2019 میں مشرقی تنزانیہ میں ٹینکر پھٹنے کے واقعے میں 85 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ کانگو میں ہونے والے ایسے ہی حادثے میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔فری ٹاو¿ن کی میئر کا کہنا ہے کہ حادثے میں ہونے والا نقصان ابھی واضح نہیں ہے اور ان کی ٹیم ڈزاسٹر مینیجمنٹ کے عملے کی مدد کے لیے موقع پر موجود ہے۔صدر جولیئس مادا بائیو کا ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ ان کی ہمدردیاں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔