Pakistan blackmails Taliban over Durand Line dispute

اسلام آباد: پاکستان ڈیورنڈ لائن تنازعہ پر طالبان کو بلیک میل کر رہا ہے۔ پاکستان نے طالبان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے سرحد پر باڑ لگانے سے انکار کیا تو افغانوں کے ڈیورنڈ لائن عبور کرنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ سنگاپور پوسٹ کے مطابق پاکستان ڈیورنڈ لائن کا حوالہ دے کر طالبان کو بلیک میل کر رہا ہے۔ وہیں طالبان حکومت نے واضح کیا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے ساتھ ایسی شرائط کی اجازت نہیں ہے۔ واضح ہو کہ ڈیورنڈ لائن افغانستان اور پاکستان میں روایتی پشتونوں کو تقسیم کرتی ہے۔

حال ہی میں افغانستان کے نئے حکمران طالبان نے پاکستان کو سخت لہجہ میں ڈیورنڈ لائن پر گھیرا بندی کی مخالفت کی ہے۔ پشتون ٹی وی طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ 2,640 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے متفق نہیں ہیں۔ اس پر انہوںنے اپنی رضامندی نہیں دی ہے۔ ترجمان نے اس پر اپنا اشارہ دیا ہے کہ وہ حکومت کی باقاعدہ تشکیل کے بعد ہی اس معاملے پر اپنے موقف کا اعلان کریں گے۔

اس سے قبل ایک بار طالبان کے ترجمان نے سرحد پر باڑ لگانے کی مخالفت کی تھی، پاکستان نے اکتوبر کے اوائل میں چمن سرحد بند کر دی تھی جو افغانستان کے لیے بہت اہم ہے۔ یہاں سے روزانہ ہزاروں ٹرک، جن میں افغان باشندے بھی شامل ہیں، گزرتے ہیں۔ یہ حد بندی 1893 میں ایک برطانوی نوآبادیاتی منتظم نے سر ہنری مورٹیمر ڈیورنڈ کی قیادت میں افغانستان کے اس وقت کے امیر عبدالرحمن کے ساتھ ایک معاہدے کے ذریعے کی تھی۔ یہ سرحد تقریبا 2,640 میل ہے۔ اس حد بندی لائن کو ڈیورنڈ لائن کے نام سے جانا جاتا ہے۔