Despite removal of TLP’s proscribed status, release of its chief not in sight

اسلام آباد:(اے یو ایس ) باوجود اس کے کہ حکومت نے ممنوعہ قرار دی جانے والی مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے جماعت کے امیر سعد حسین رضوی اب تک حراست میں ہیں اور ان کی فوری رہائی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے کیونکہ فیڈرل ریویو بورڈ (ایف آر بی) نے ابھی ان کی حراست کے حوالے سے حکومت پنجاب کے کیس کی سماعت نہیں کی ہے۔پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے رواں سال اپریل میں ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا تھا لیکن حالیہ عرصے میں حکومت سے ہونے والے ایک معاہدے کے تحت اس کے پرانے اسٹیٹس کی بحالی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔نوٹی فکیشن کے بعد اب ٹی ایل پی کے ساتھ لفظ ‘کالعدم’ نہیں لکھا جائے گا اور یہ جماعت ملک بھر میں اپنی مذہبی و سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکے گی۔ٹی ایل پی کے تمام منجمد اکاو¿نٹس کھول دیے گئے ہیں اور اب پارٹی کے ذمے داران اپنے اکاؤنٹس سے رقوم نکال یا جمع کرا سکتے ہیں۔حکومتی نوٹی فکیشن کو انسداد دہشت گردی کے ادارے ‘نیکٹا’ کو بھی بھیجا گیا ہے جہاں کالعدم جماعتوں کی فہرست میں 79 نمبر پر موجود اس جماعت کا نام نکالا جائے گا۔ٹی ایل پی کا نام کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالے جانے پر سوشل میڈیا پر حکومت تنقید کی زد میں ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ ایک جماعت جس نے کئی پولیس اہل کاروں کو ہلاک کیا اسے صرف پرامن رہنے کے وعدے کی بنیاد پر کس طرح کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالا جا سکتا ہے؟واضح رہے کہ وفاقی وزارتِ داخلہ کے مطابق پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے کے لیے جماعت کی درخواست پر غور کے بعد سفارشات تیار کر کے وزارتِ داخلہ کو ارسال کی تھیں۔مفتی منیب نے کہا کہ وزرا سے متعلق ان کے بیانات میں تلخی کا تعلق رویتِ ہلال کمیٹی سے علیحدگی سے جوڑنا درست نہیں۔وزارتِ داخلہ نے یہ سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کی جسے کابینہ نے منظور کر لیا تھا۔ جس کے بعد اتوار کی شب وزارتِ داخلہ نے ٹی ایل پی سے پابندی ختم ہونے کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔پابندی کا یہ خاتمہ حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے باعث ہو سکا ہے۔ پنجاب حکومت نے معاہدے کے تمام نکات پر عمل درآمد کر لیا ہے، تاہم جماعت کے امیر سعد رضوی کی نظر بندی اب تک ختم نہیں ہو سکی۔صوبائی حکومت نے ٹی ایل پی کے 577 کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول سے نکال دیے ہیں اور 2100 سے زائد گرفتار کارکنوں کو رہا کر دیا ہے۔

پنجاب حکومت ٹی ایل پی کے کارکنوں پر قائم مقدمات کے حوالے سے عدالتوں میں نرم رویہ اختیار کرے گی۔فرانس کے سفیر کی ملک بدری اور سعد رضوی کی رہائی کے معاملے پر 12 ربیع الاول کو لاہور میں ٹی ایل پی کے مرکز پر شروع ہونے والا میلاد کا اجتماع میلاد کے بعد احتجاج کا اجتماع بن گیا تھا اور مرکزی قائدین نے اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا تھا۔بعد ازاں حکومت کو دی گئی ڈیڈلائن پر حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل نہ آنے پر جماعت نے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا اور اس دوران کئی مقامات پر خونریز جھڑپیں دیکھنے میں آئیں جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہل کار ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔حکومت نے اس جماعت سے عسکری جماعت کے طور پر نمٹنے کا فیصلہ کیا تھا اور پنجاب حکومت کی درخواست پر 60 روز کے لیے رینجرز کو اختیارات سونپ دیے تھے۔صورتِ حال زیادہ خراب ہونے پر وزیر آباد کے قریب مظاہرین کے رکنے پر رویتِ ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن سمیت بریلوی مکتبہ فکر کے کئی علما مذاکرات کے عمل میں شامل ہوئے اور اعلیٰ حکومتی شخصیات سے مذاکرات کیے گئے۔