Girls’ schools for grades 7-12 reopen in Herat

کابل: کم و بیش3مہینوں کے انتظار کے بعد آخر کار مغربی صوبے ہرات میں تمام طالبات کے لیے گرلز اسکول کھول دیے گئے۔گذشتہ کئی ماہ سے صرف چھٹی جماعت تک کی بچیوں کو اسکول جانے کی اجازت تھی لیکن اب ساتویں سے بارہویں جماعت کی طالبات کے لیے بھی اسکولوں کے دروازے کھول دیے گئے ۔ہرات کی منتخب اساتذہ کونسل کے مطابق اس اقدام سے ہرات میں مزید3لاکھ سے زائد طالبات کے اسکول جانے کی راہ ہموار ہوگی۔

کونسل کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہرات میں امارت اسلامیہ کے عہدیداروں کے ساتھ کونسل اور لڑکیوں کے اسکول کے عہدیداروں کے درمیان ایک ماہ تک چلنے والے تبادلہ خیال کے بعد ساتویں سے بارہویں جماعت کی طالبات کو بھی اسکول جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ کونسل کے چیئرمین محمد صابر مشعل نے کہا کہ پہلے صرف پہلی سے چھٹی جماعت کی طالبات کے لیے ہی گرلز اسکول کھلے تھے لیکن اب ساتویں سے بارہویں جماعت کی طالبات بھی اسکول جاتی ہیں۔ ورنہ اس سے قبل ڈھائی سے تین لاکھ کے درمیان طالبات کو اسکول جانے سے روک دیا گیا تھا۔ دریں اثنا ہرات میں طالبات کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تعلیم کا سلسلہ پھر شروع ہوجانے سے بہت خوش ہیں۔

نویں جماعت کی طالبہ مصری وفا نے کہا کہ اسکول بند ہو جانے سے ہمیں بہت مایوسی ہوئی تھی لیکن اب ا سکولوں کے کھل جانے اور ہمیں اسکول جانے کی اجازت ملنے سے ہمیں نئی امید پیدا ہو چلی ہے۔نویں جماعت کی طالبہ سناز حیدری نے کہا کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ ا سکول دوبارہ کھل گئے ہیں اور ہم اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔ اگرچہ طالبات اور اساتذہ تعلیمی سرگرمیاں شروع ہو جانے سے بہت خوش ہیں لیکن ہرات میں اساتذہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اب بھی ایک سنگین تشویش ہے۔

ہرات میں اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں چار ماہ سے زائد عرصے سے تنخواہ نہیں ملی ہے اور انہیں شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔استاد زرغون رسولی نے کہا کہ اساتذہ کی واحد آمدنی ان کی تنخواہ ہے، اور یہ کئی مہینوں سے واجب الادا ہے ۔اگر اساتذہ کی تنخواہیں دے دی جائیں تو وہ بہتر پڑھا سکتے ہیں۔ استاد سہیلہ شریفی نے کہا کہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ اب لڑکیوں کے اسکول دوبارہ بند نہیں ہوں گے اور نہ ہی ہمارے پڑھانے پر پابندیاں عائد کی جائیں گی ۔ہرات کے محکمہ تعلیم کے مطابق ہرات میں دس لاکھ سے زائد طلبا اسکول جاتے ہیں جن میں نصف تعداد طالبات کی ہے ۔