Taliban home minister Haqqani pave the way for formal talks between TTP and Imran Govt

اسلام آباد: طالبان کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے۔ پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق طالبان قیادت نے پاکستان کو آفر دیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرائے گا۔ دریں اثنا طالبان نے بھی وعدہ کیا ہے کہ اگر کوئی گروپ مذاکرات اور معاہدے سے بچتا ہے تو اس کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی۔پاکستان کی حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان اب تک تین بار مذاکرات ہو چکے ہیں۔ ایک میٹنگ کابل میں ہوئی ہے اور دو میٹنگیں خوست میں ہوئیں۔ طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اس گفتگو میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔اطلاعات ہیں کہ ٹی ٹی پی نے اپنے لوگوں کو چھوڑنے کے بدلے میں ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

کابل میں پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کی خبروں کی نہ تو تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہی تردید کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹی ٹی پی میں شامل کچھ دھڑوں کو سادھنے کی کوشش کر رہا ہے جو بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اس سے ٹی ٹی پی ٹوٹ جائے گی اور کمزور ہو جائے گی۔ پھر پاکستانی فوج اس کے خلاف کارروائی کرے گی۔ دراصل، طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد حکومت پاکستان مذاکرات پر مجبور ہو گئی۔ ٹولو نیوز نے رپورٹ کیا کہ قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے جنوب مشرقی صوبے خوست میں گزشتہ دو ہفتوں سے فریقین کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی۔ اگرچہ امارت اسلامیہ نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی لیکن کہا کہ وہ اپنا کردار ادا کرے گی۔ امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ امارت اسلامیہ کا موقف ہے کہ وہ اہم مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ٹولونیوز کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات کی ثالثی افغانستان کے مفاد میں ہوگی یا نہیں اس پر مختلف آرا ہیں۔

اس سے قبل ٹی ٹی پی نے جنگ بندی کی پیشگی شرط کے طور پر اپنے قیدیوں کی رہائی پرزور دیا تھا۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہے۔ ٹولو نیوز نے رپورٹ کیا کہ قومی یکجہتی تحریک کے رہنما سید اسحاق گیلانی نے کہا کہ جاری مذاکرات کو امارت اسلامیہ کے لیے ایک کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سراج الدین حقانی نے مذاکرات میں مدد کی تو یہ افغانستان کے عوام کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ واضح ہو کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے کئی حصوں میں سرگرم ہے۔