Taliban quest to build its own air force

کابل : کابل پر قبضے کے بعد پڑے پائے گئے امریکی ہتھیاروں کو استعمال کرنے والے طالبان نے اب ملک میںاپنی فضائیہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک میں اقتدار سنبھالنے کے دو ماہ بعد طالبان نے ملک میں فضائیہ کی تعمیر اور اسے مضبوط کرنے کی بات کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کو کابل کے مرکزی ملٹری ہسپتال سردار داو¿د خان پر مشتبہ آئی ایس آئی ایس – کے نے حملہ کیا تھا۔ اس میں 23 لوگوں کی موت کے بعد طالبان نے امریکی بلیک ہاک سمیت تین طالبان ہیلی کاپٹر ہسپتال کی چھت پر تعینات کر دئیے تھے۔ اس حملے میں طالبان کی جانب سے ہسپتالوں کی حفاظت کے لیے تعینات امریکی بلیک ہاک سمیت تین ہیلی کاپٹروں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا اور دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) کے دہشت گردوں کا قلع قمع کیا تھا۔ طالبان نے کہا کہ ملک میں فضائیہ کو بہت زیادہ مضبوط کیا جائے گا، تاکہ ملک کے سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کیا جاسکے۔

طالبان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ، ہم ان فوجیوں کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو پچھلی حکومت کی فضائیہ میں تھے اور ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وہ سب ہمارے پاس واپس آئیں۔ واضح ہو کہ کابل کے راشٹرپتی بھون میں طالبان کے داخل ہونے سے چند روز قبل قندھار کی فضائیہ اور امریکی ایم آئی 17 کو بھی طالبان نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ جس کی تصویر بھی طالبان نے جاری کی تھی۔ اس حملے کے بعد طالبان حکومت میں وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی نے کے نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ پچھلی حکومت کی فضائیہ اور ان کے پاس موجود پیشہ ور افراد کو استعمال کیا جائے۔

نیز ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ وہ سب واپس آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سب کے لئے اچھی پالیسی ہے۔ کے نیوز نے ایک ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت مکمل طور پر قائم ہونے کے بعد جلد ہی ایک مکمل فضائیہ تشکیل دی جائے گی۔ وہیں، طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ ہم فضائیہ بنا رہے ہیں۔ پروازوں میں سہولت فراہم کرنے والے پائلٹس کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے۔ نیز ہم نے ان سے کہا ہے کہ وہ واپس آئیں اور دوبارہ فوج میں شامل ہوں اور اپنے ملک کی مدد کریں۔