Iran calls on intl community to prevent Afghan migrants

تہران: ایران کی وزارت داخلہ نے بین الاقوامی برادری کو انتباہ دیا ہے کہ اگر افغانستان کی اقتصادی صورتحال پر توجہ نہ دی گئی اور اس سے صرف نظر کی جاتی رہی تو یورپی ممالک کو افغان مہاجرین کی ایک اور لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی نے افغان مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کا اصل سبب افغان اثاثہ جات کے انجماد ، زرمبادلہ کے ذخائر کی کمی اور انسانی امداد کی قلت بتایا ۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ تارکین وطن ایران میں نہیں رہیں گے توکہاں جائیں گے؟ بلا شبہ انہیں دیگر ممالک کی سرحدوں کا رخ کرنا ہوگا۔ ہم نے ترکی سے متصل سرحد سے لوگوں کو واپس کیا ہے۔ دوسری جانب امارت اسلامیہ افغانستان نے ایران سے استدعا کی ہے کہ افغان مہاجرین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا جائے۔امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ماضی میں افغان مہاجرین کو خندہ پیشانی سے گلے لگایا ہے اورہم اب بھی چاہتے ہیں کہ وہ افغان مہاجرین کے ساتھ رواداری اور اچھے برتاو¿ کا مظاہرہ کریں۔

وا ضح ہو کہ افغان شہری یورپی ممالک پہنچنے کے لیے روزانہ غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہوتے ہیں۔ایران میں ایک افغان مہاجر محمد ولی اکبری نے کہا کہ حال ہی میں کثیر تعداد میں افغان تارکین وطن گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں اب غیر ملکی تارکین وطن کے لیے مزید گنجائش نہیں ہے۔ ایران میں تارکین وطن کے حقوق کی سرگرم کارکن آصفہ ستانکزئی نے طلوع نیوز کو بتا یا حکومت کی تبدیلی کے بعد ہم تارکین وطن کی ایک اور لہر دیکھ رہے ہیں جو غیر قانونی طریقوں سے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایران میں ا فغان پناہ گزینوں کی نئی لہر کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔جو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران پہلے ہی تقریباً 300,000 افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔