CCP's key conclave passes 'landmark resolution

بیجنگ:جمعرات کو اختتام پذیر ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا(سی پی سی) کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں پارٹی کے گزشتہ 100 برسوں میں اہم کامیابیوں کے حوالے سے ایک تاریخی تجویز منظور کی گئیہے۔ اس کے ساتھ ہی آئندہ سال صدر شی جن پنگ کی ریکارڈ تیسری مدت کے لیے بھی راستہ صاف کر دیا گیا ہے۔ پارٹی کی 19ویں مرکزی کمیٹی کا چھٹا مکمل اجلاس 8 سے 11 نومبرکو بیجنگ میں منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں تاریخی تجویزکا جائزہ لیا گیا اور اسے منظور کیا گیا۔ یہ سی پی سی کی 100 سالہ تاریخ میں اس طرح کی صرف تیسری تجویز ہے۔ پارٹی جمعہ کو ہونے والی پریس کانفرنس میں اس بارے میں تفصیلی جانکاری دے گی۔شی جن پنگ نے اجلاس میں اہم خطاب کیا۔

میٹنگ کے دوران سی پی سی کے پولیٹیکل بیورو کی جانب سے شی جن پنگ کی پیش کردہ ورک رپورٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شی نے تجویز کے مسودے پر اپنی پوزیشن بھی واضح کی، جس کی تفصیلات ابھی تک نہیں دی گئیں۔ اجلاس میں2022 کے آخر میں بیجنگ میں سی پی سی کی 20 ویں قومی کانگرس کے انعقاد کی تجویز کی بھی منظوری دی گئی جس سے توقع ہے کہ باضابطہ طور پر غیر معمولی انداز میں تیسری مدت کے لیے شی کا نام تجویز کیا جائے گا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ 68 سالہ شی چین کے اقتدار کے تین مراکز پر کنٹرول میں ہیں – سی پی سی کے جنرل سیکرٹری، اعلیٰ اختیاراتی سینٹرل ملٹری کمیشن (سی ایم سی) کے چیئرمین جو تمام فوجی کمانڈز اور صدر کی نگرانی کرتے ہیں – اور وہ اپنی خدمات انجام دیں گے۔ دوسری پانچ سالہ مدت اگلے سال مکمل ہو جائے گی۔

سی پی سی کے اجلاس کو شی جن پنگ کے لیے سیاسی طور پر انتہائی اہم سمجھا جا رہا تھا، جو اپنے نو سالہ دور اقتدار کے بعد پارٹی کے بانی ماؤزے تنگ کے بعد سب سے طاقتور رہنما بن کر ابھرے ہیں۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ وہ اپنے پیشرو ہو زنٹاؤکے برعکس تیسری مدت سنبھالیں گے۔ زنٹاو¿ دو میعاد کے بعد ریٹائر ہو چکے تھے۔ سال 2018 میں کی گئی آئینی ترمیم کے بعد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تاحیات اس عہدے پر بنے رہیں کیونکہ اس کے ذریعے صدر کی مدت ملازمت کی حد ختم کر دی گئی ہے۔ جن پنگ کو 2016 میں پارٹی کا ‘مرکزی رہنما’ نامزد کیا گیا تھا۔ جو ماؤ کے بعد وہ یہ درجہ حاصل کر نے والے پہلے لیڈر ہیں۔