Five security personnel killed in Pakistan attacks near Afghanistan

پشاور: پاکستان میں افغانستان کی سرحدکے قریب ہوئے بم دھماکوں اور انتہاپسندوں سے فوج کے مسلح تصادم میں دو پولیس اہلکار اور تین فوجی ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوگئے۔ایک دھماکہ صوبہ خیبر پختونخوا کے شورش زدہ قبائلی علاقے میں ہفتے کے روز سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے ہوا ۔ باجوڑ کے ضلع پولیس سربراہ عبدالصمد خان نے بتایا کہ اس دھماکے میں راگھن ڈیم کی حفاظت پر تعینات دو پولیس اہلکار ر جو گشت کر رہے تھے کہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

صمد خان نے بتایا کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا ضلع باجوڑ کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا گڑھ رہا ہے۔ ٹی ٹی پی افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کافی سرگرم ہے۔ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد ایک دہائی سے زائد عرصے سے پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر کئی حملوں میں ملوث رہے ہیں۔دریں اثنا، پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ریموٹ سے چلنے والے ایک بم دھماکے میں دو پولیس افسران سمیت سات افراد زخمی ہو گئے۔

ایک سینئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ بم دھماکہ ایک پولیس وین کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا جو کہ ایک انتہائی سکیورٹی والے علاقے ناوا کلی کے قریب تھا۔ انہوں نے کہا نشانہ پولیس ایگل اسکواڈ کی وین تھی اور جب گاڑی وہاں سے گزری تو بم کو ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا۔اہلکار نے بتایا کہ دھماکے میں سات افراد زخمی ہوئے، جن میں سے دو پولیس اہلکار تھے۔ زخمیوں کو کوئٹہ کے سرکاری ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔تربت ضلع کے ہوشاب علاہ میں انتہاپسندوں کے ساتھ مسلح تصادم میں دو فوجی مارے گئے جبکہ ایک فوجی اسی دوراان دھماکہ خیز مواد کو ہٹاتے ہوئے دھماکہ ہوجانے سے ہلاک ہو گیا۔