China, Pakistan 'all weather friendship' face cracks as Beijing turning away big ticket investments in Islamabad

اسلام آباد: چین اور پاکستان کی دوستی میں اب واضح طور پر دراڑ نظر آنے لگی ہے۔ بلا شبہ دونوں ملک اس حقیقت کو پوشیدہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن کئی مواقع پر دونوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا سچ سامنے آ رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق چین کے ہاتھوں پاکستان کی بار بار بے عزتی ہو رہی ہے۔ یہ بے عزتی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی)اور چائنا موبائل پاکستان سے منسلک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کے معاملے میں دیکھی گئی ہے۔ اسرائیلی صحافی سرجیو راسٹیلی کا کہنا ہے کہ دوستی کی دراڑپہاڑوں سے زیادہ بلند اورسمندر سے گہری ہے۔سرجیو نے ٹائمز آف اسرائیل میں کہا ہے کہ پاکستان سنکیانگ میں کاشغر سے گوادر تک 62 بلین ڈالر کی اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کی تعمیر پر بہت خوش نظر آیا، کیونکہ یہاں کے لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے خوشحالی اور پیسہ آئے گا۔ جس دن سے یہ معاہدہ ہوا ہے، اس دن سے اس پر شفافیت کا فقدان، دیے گئے قرض کی شرائط کو چھپایاجانا، چینی مزدوروں کی پاکستان آمد، قرضوں کے بوجھ میں اضافہ جیسے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پی ای سی سے پاکستان کو پیدا ہونے والی مشکلات کی فہرست بہت طویل ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال حالیہ واقعہ ہے۔ چینی حکومت نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اس سال 14 جولائی کو ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے چینی کارکنوں اور انجینئروں کے اہل خانہ کو 38 ارب ڈالر معاوضہ ادا کرے۔ میڈیا رپورٹس کے حوالے سے سرجیو کا کہنا ہے کہ شورش زدہ شمالی وزیرستان کے علاقے میں چائنا کیپیٹل موبائل پاکستان کا ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں قائم موبائل ڈیٹا نیٹ ورک آپریٹر اب جونگ کے نام سے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔سرجیو کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی گردن پر پڑے معاشی بوجھ کا پھندا روز بروزز تنگ ہوتا جا رہاہے۔

وہ کہتے ہیں، چین سکیورٹی خدشات اور سرمایہ کاری پر واپسی میں تاخیر کی وجہ سے پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرنے سے گریز کر رہا ہے۔چین نے ابھی تک تین بڑے ہائی وے منصوبوں کے لیے فنڈنگ کی منظوری نہیں دی ہے۔ اس تاخیر کا مطلب پاکستان کے لئے لاگت میں اضافہ ہے۔لیکن چینی حکومت گزشتہ تین سالوں سے کرپشن کے الزامات کا حوالہ دے کر اس سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صحیح وقت ہے، جب پاکستان کو یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ اس کا ہمہ وقت دوست چین صرف اور صرف اپنے تزویراتی مقاصد کی تکمیل کے لیے اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔