Delhi: Jawaharlal Nehru University sees fresh clashes

نئی دہلی:جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) اور بائیں بازو کی اتحاد آل انڈیا اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے ارکان کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ جس میں تقریباً15 طلبا زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے تین کو گہری چوٹیں آئی ہیں۔

طلبا یونین کے ارکان نے یو این آئی کو بتایا کہ تصادم میں شدید زخمی ہونے والوں کا نئی دہلی کے ایمس میں علاج کیا جا رہا ہے۔ اس واقعہ کی باقاعدہ شکایت دہلی پولیس سے کی گئی ہے۔وسنت کنج تھانے میں تعزیرات ہند کی دفعہ323،341اور34کے تحت دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ واقعہ اتوار کی رات تقریباً 10 بجے یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے دفتر میں پیش آیا۔ دونوں فریقوں کے ارکان ایک دوسرے پر تشدد شروع کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ اے بی وی پی ۔جے این یو کے صدر شیوم چورسیا نے کہا کہ جب وہ طلبہ یونین کے دفتر کے اسٹوڈنٹس ایکٹی وٹی سینٹر میں میٹنگ کر رہے تھے تو اے آئی ایس اے اور ایس ایف آئی کے ارکان اندر آئے اور اے بی وی پی طلبہ کو وہاں سے جانے کو کہا۔جب انہوں نے وہاں سے جانے سے انکار کر دیا تو انہوں نے ایک طالبعلم کو نشانہ بنا کر اسے پیٹنا شروع کر دیا۔

وویک پانڈے نام کے ایک طالبعم نے جسے اے بی وی پی کے ممبران نے زدو کوب کیا تھا ،کہا کہ جب وہ یونین روم پہنچا تو اے بی وی پی والے نعرے بازی کر رہے تھے۔ اچانک ہی 10,15طلبا نے مجھے گھیر لیا اور مجھے پیٹنا شروع کر دیا۔انہوں نے مجھے کرسیوں سے بھی مارنے کی کوشش کی۔