Islamic Emirate calls on US congress to release funds

کابل: اسلامی امارات کے نگراں وزیر خارجہ امیر خان متقی نے امریکی کانگریس کو ایک مکتوب لکھ کر کہا ہے کہ حکومت امریکہ کے ذریعہ منجمد کیے گئے اغانستان سینٹرل بینک کے اثاثہ جات جاری کر دیے جائیں۔ خط میں افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو جاری کرنے کے طالبہ کے ساتھ ہی امریکی پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا گیاہے۔قائم مقام وزیر خارجہ نے خط میں کہا کہ دوحہ معاہدے پر دستخط کے بعد امریکہ اور امارت اسلامیہ کے درمیان محاذ آرائی ختم ہو گئی ہے اور اب سفارتی تعلقات کا باب شروع ہو چکا ہے۔

قائم مقام وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان امریکہ سمیت تمام ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ “فروری 2020 میں دوحہ معاہدے پر دستخط کے بعد، ہم اب ایک دوسرے کے ساتھ جنگ میں نہیں ہیں اور اب ایک دوسرے کے ساتھ عسکری ٹکراو¿ یا مخالفت نہیں ہے، اس لیے افغانستان کی دولت اور رقم پر پابندیاں لگانا غیر منطقی ہے۔ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں فریقین کے پاس مستقبل میں مثبت تعلقات قائم کرنے کا بہترین موقع ہے اور ہمیں ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ “اگرچہ ہمارے پاس مثبت تعلقات کا بہترین موقع ہے، لیکن پابندیوں اور دباو¿ کے آپشن کا استعمال ہمارے تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد نہیں کر سکتا۔ قائم مقام وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مالی اور اقتصادی مسائل اس وقت افغانستان کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہیں۔ ان کے بقول، امریکہ کی طرف سے افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو منجمد کرنا ملک میں موجودہ اقتصادی چیلنجوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔

خط میں کہا گیا کہ ‘یہ حیرت کی بات ہے کہ نئی افغان حکومت کے اعلان کے ساتھ ہی امریکی حکومت نے ہمارے مرکزی بینک اثاثے منجمد کر دیے۔ یہ ہماری توقعات کے برعکس اور دوحہ معاہدے کے خلاف ہے۔ افغانستان کے عوام ملک میں کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد محفوظ ہیں۔ ہمارے عوام کے لیے اب بنیادی مسئلہ مالی تحفظ ہے، جو کہ امریکی حکومت کی جانب سے ہمارے لوگوں پر عائد پابندیوں کی وجہ سے ہے۔ محکمہ خارجہ نے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ امارت اسلامیہ عالمی برادری اور امریکہ کے خدشات کو سمجھتی ہے لیکن زرمبادلہ کے ذخائر کو منجمد کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر افغانستان کے زرمبادلہ کے اثاثے منجمد رہے تو موسم سرما کے قریب آتے ہی افغانستان میں مسائل بڑھیں گے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان پیسے کو منجمد کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اور یہ امریکی عوام کی مرضی نہیں ہے۔ لہٰٰذا آپ کی حکومت کو ہمارے پیسے جاری کرنے چاہئیں۔ ہمیں تشویش ہے کہ اگر موجودہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو افغانستان کی حکومت اور عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو گی، جو خطہ اور دنیا کے لیے انسانی اور اقتصادی بحران کا باعث بنے گی۔

محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر منجمد ہونے اور پابندیوں کے نفاذ سے افغانستان میں نہ صرف تجارت اور روزگار متاثر ہوا ہے بلکہ انسانی امداد بھی متاثر ہوئی ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ ذخائر کی بندش سے صحت، تعلیم اور دیگر سول سروس کے نظام کو نقصان پہنچا ہے۔قائم مقام وزیر خارجہ نے امریکی حکومت سے افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو منجمد کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ مکتوب میں مزید لکھا گیا ہے کہ آخر میں، ہم ریاستہائے متحدہ کی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ افغانستان میں اس انسانی اور اقتصادی بحران کو حل کرنے کے لیے ذمہ دارانہ اقدامات کرے، تاکہ ہمارے مستقبل کے تعلقات کے لیے دروازے کھولے جا سکیں، اور ہم امریکی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ افغانستان کے مرکزی بینک کو دوبارہ کھولے۔