Gurugram's Sadar Bazaar Gurudwara offers space for Namaz

نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی سے متصل ہریانہ کے شہر گروگرام (گڑ گاؤں) میں کھلے میدان میں جمعہ کی نماز پڑھائے جانے کی مخالفت کے درمیان سکھ برادری نے معاملہ کو احسن طریقے سے سلجھانے کے پیش نظر مسلمانوں کو اپنے گوردوارے میں نماز جمعہ ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔

گروگرام کی صدر بازار گوردوارہ کمیٹی نے مسلم سماج کے لوگوں سے کہا ہے کہ اگر انہیں نماز جمعہ ادا کرنے میں کوئی پریشانی آرہی ہے تو وہ گوردوارے میں آکر کوویڈ 19-پروٹوکول کے تحت نماز پڑھ سکتے ہیں۔ گوردوارہ سنگھ صاحب کمیٹی کے صدر شیر دل سنگھ سدھو کا کہنا ہے کہ گوردوارہ گروؤں کا گھر ہے اور گورو کے گھر میں آنے پر کسی بھی مذہب کے شخص پر کوئی بندش یا پابندی نہیں ہے۔ اگر کوئی اپنی عبادت یہاں آکر کرنا چاہتا ہے تو گوردوارے کی بیسمنٹ میں اپنی عبادت کر سکتا ہے۔

سدھو نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی کے زیر انتظام مزید چار گوردوارے بھی مسلمانوں کے لیے نماز جمعہ پڑھنے کھول دیے جائیں گے۔درصل گذشتہ کچھ مہینوں سے گورو گرام میں کھلے میں نماز پڑھنے کی مخالت ہو رہی ہے ۔ہندو تظیمیں مسلسل اس کی مخالفت کر رہی ہیں اور اس کے خلا جگہ جگہ مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

تین سال پہلے یات حکومت نے گروگرام میں ایسی 37جگہوں کا تعین کیا تھا جہاں مسلمان جمعہ کی نماز کھلے میں ادا کر سکتے ہیں۔اس وقت بھی اس کی مخالفت کی گئی تھی۔اس مخالفت کے بعد اس ماہ کے اوائل میں گروگرام ایڈمنسٹریشن نے مقامی ر ہائشیوں کے اعتراض کے بعد 37میں سے 8مقامات پر نماز جمعہ کی اجازت دی تھی۔