Libyan warlord Khalifa Haftar to run for president

طرابلس: (اے یوایس)لیبیا کے سابق فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر نے 16 نومبراعلان کیا وہ بھی آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیبیا میں 24 دسمبر کو ہونے والے انتخابات کو ایک دہائی سے جاری خانہ جنگی اور سیاسی انتشار کے خاتمے کی آخری کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خلیفہ حفتر حال ہی میں اپنے فوجی عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے، جس کے بعد سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ انتخابات میں صدارتی امیدوار ہو سکتے ہیں۔ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں جنگی سردار خلیفہ حفتر نے کہا کہ ناٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں طاقتور حکمراں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک جس انتشارسے دوچار ہے، اس بحران کو صرف جمہوری انتخابات ہی ختم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے وعدہ کیا اگر وہ کامیاب ہوئے تو مفاہمت، امن اور تعمیر کا ایک نیا راستہ شروع کریں گے۔ لیبیا میں خلیفہ حفتر کو تفرقہ پیدا کرنے والی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ طرابلس میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت ان کے اس قدم پر شدید نکتہ چینی کرے گی۔ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کی ملیشیا کا جو اثر ہے اس تناظر میں ان کے زیر قبضہ علاقوں میں کوئی بھی ووٹ منصفانہ اور آزاد نہیں سمجھا جا سکتا۔ 2017 میں قیدیوں کو قتل کرنے کی وجہ سے ان پر جنگی جرائم کے الزام بھی عائد ہوتے رہے ہیں۔ حفتر کرنل معمر قذافی کے سابق اتحادی تھے، جنہیں بعد میں جلاوطن کر دیا گیا تھا اور کئی دہائیوں تک امریکا میں رہنے کے بعد انہوں نے بالآخر وہاں کی شہریت بھی حاصل کر لی تھی۔جنگی سردار خلیفہ حفتر معمر قذافی کے دور میں ملکی فوج کے ایک سینیئر افسر تھے اور بعد میں اپنی مسلح تنظیم لیبیئن نیشنل آرمی کے کمانڈر اورخود ساختہ فیلڈ مارشل بن گئے۔

اب انہوں نے اس سے استعفی دے دیا ہے۔ان انتخابات میں مقتول آمر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی بھی ایک امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ صدارتی امیدوار کے طور پر انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی اتوار چودہ نومبر کو نیشنل الیکٹورل کمیشن میں جمع کرائے تھے۔ یہ کاغذات قذافی کے بیٹے نے ملک کے جنوب مغربی شہر صباح میں جمع کروائے۔ لیبیا کی الیکشن کمیشن نے بھی صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار ان کے شریک ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔معمر قذافی کے دور میں انہیں اپنے والد کا جانشین تصور کیا جاتا تھا۔ ان کے والد ایک عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے محروم کر دیے گئے تھے۔ والد کے زوال کے بعد سیف الاسلام کو 2011 میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔انہیں پانچ برس سے زائد عرصے بعد جون 2017 میں رہا کیا گیا۔ ان کی سیاسی وابستگی پاپولر فرنٹ برائے آزادی لیبیا نامی سیاسی و عسکری گروپ کے ساتھ ہے۔ یہ بنیادی طور پر سابق آمر کے حامیوں کی سیاسی جماعت اور ملیشیا ہے۔