Pakistan: joint session of prliament passes electoral reforms bill

اسلام آباد:(اے یو ایس ) اسلام آباد میں پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے اعتراضات اور واک آؤٹ کے باوجود انتخابات میں رائے شماری کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال کا ترمیمی بل منظور کر لیا گیا ہے۔اس بل کے تحت 2017 کے الیکشن ایکٹ میں دو ترامیم تجویز کی گئی ہیں جو کہ ووٹنگ کے لیے الیکٹرانک مشینوں کے استعمال اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹنگ کا حق دینے سے متعلق ہیں۔یہ بل پیش کرنے کی تحریک کے حق میں 221 ارکانِ اسمبلی نے ووٹ دیا جبکہ اس کی مخالفت میں 203 ووٹ آئے جس کے بعد بل کی شق وار منظوری دی گئی۔

خیال رہے کہ مجوزہ بل میں دی گئی تجاویز کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک کو صرف کوئی عدالت سنگین مس کنڈکٹ کی صورت میں ہٹا سکے گی اور سٹیٹ بینک کے گورنر، ڈپٹی گورنرز، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے خلاف کوئی حکومتی ادارہ سرکاری ذمہ داریوں کے سلسلے میں کسی قسم کی تحقیقات صرف تبھی کر سکے گا جب سٹیٹ بینک کا بورڈ خود اس کی منظوری دے۔اس ترمیم سے خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کا گورنر پاکستان کے کسی بھی ادارے کو جوابدہ نہیں ہو سکے گا۔ مجوزہ قانون کے تحت سٹیٹ بینک کے گورنر سمیت متعدد اعلیٰ حکام کی مدتِ ملازمت میں بھی تبدیلی کی جا رہی ہے۔اسی طرح مانیٹری اینڈ فسکل کوارڈینیشن بورڈ کو ختم کر کے صرف سٹیٹ بینک کے گورنر اور ملک کے وزیرِ خزانہ کے درمیان مشاورت کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس سے حکومت کے پاس سٹیٹ بینک پر اثرانداز ہونے کے طریقے کم ہو جاتے ہیں۔حال ہی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے ان ترامیم کو منفی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ خود مختاری کے نام پر ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت سٹیٹ بینک کے قانون میں ترامیم کر کے اسے خود مختار بنا کر معیشت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ ان ترامیم کے بعد حکومت کا کردار ختم ہو جائے گا اور سٹیٹ بینک بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو قرض ادا کرے گا۔انھوں نے کہا کہ قانون میں ترمیم کے مطابق جب سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر میں کمی ہو گی تو حکومت کو اسے ہر صورت میں پیسے ادا کرنا پڑیں گے جس کے لیے اسے غیر ملکی قرضہ حاصل کرنا پڑے گا یعنی قرض کو ادا کرنے کے لیے مزید نیا قرض لینا پڑے گا۔مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت کے اراکینِ اسمبلی کے علاوہ حکومت کی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کی جماعتوں کے رہنما اور ارکان پارلیمنٹ میں موجود تھے۔

پارلیمان پہنچنے پر میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کھلاڑی جب بھی میدان میں اترتا ہے تو وہ ہر صورتحال کے لیے تیار ہوتا ہے۔‘اجلاس سے قبل وزیرِ اطلاعلات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت باآسانی مشترکہ اجلاس میں قانون سازی میں کامیاب رہے گی اور اسے اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ دونوں قوانین بہت اہم ہیں جس میں ایک بل الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور دوسرا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے حق سے متعلق بل ہے۔ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ’پارلیمان اوورسیز پاکستانیوں کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی سہولت کا قانون پاس کر کے تحریک انصاف ایک اور انتخابی وعدے کی تکمیل کرے گی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’الیکٹرونک ووٹنگ مشین اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کا قانون پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے‘۔