Sixteen researchers from Jamia Millia Islamia rank among world's top 2% scientists

نئی دہلی:(اے یو ایس ) گزشتہ کچھ سالوں سے ہندوستانی سیاست کی وجہ سے سرخیوں رہنے والا جامعہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ اس بار جامعہ کسی احتجاج یا مظاہرہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی منفرد کامیابیوں کی وجہ سے میڈیا کا مرکز بناہوا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں جامعہ نے نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ حال ہی میں، یونیورسٹی کولندن کی کیو ایس یونیورسٹی رینکنگ ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ ‘کیو ایس ایشیا یونیورسٹی رینکنگ 2022میں 186 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جو کہ گزشتہ سال جامعہ کے 203 ویں رینک سے بہت بہتر ہے۔ کیو ایس ایشیا یونیورسٹی رینکنگ – 2022 میں ایشیا کی 687،معیاری یونیورسٹیوں کو شامل کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ گزشتہ دنوں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے نام ایک اور بڑا کارنامہ جوڑا گیا ہے۔ امریکہ کی ا سٹینفورڈ یونیورسٹی نے جامعہ کے 16 محققین کو دنیا کے ٹاپ 2% سائنسدانوں کی ممتاز عالمی فہرست میں شامل کیا ہے۔

یہ فہرست چند روز قبل ماہرین کی ایک ٹیم نے تیار کی تھی جس کی سربراہی پروفیسر جان آئیونیڈس، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے نامور پروفیسر تھے اور اسے عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی ایلسیویئر بی وی نے شائع کیا تھا۔ ہندوستان کے کل 3352 محققین نے اس فہرست میں جگہ پائی۔ جامعہ کی کامیابیوں میں یکے بعد دیگرے دو اور نام جڑے ہیں۔ پہلا نام جامعہ ملیہ اسلامیہ کے فیکلٹی ڈاکٹر منصف عالم کا ہے جن کی ٹیم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈسٹبن کا ایجاد کیاہے۔ اس ایجاد کو آسٹریلوی حکومت نے ایک املاک دانش کے طور پر پیٹنٹ دیا ہے۔ جبکہ دوسرا نام پروفیسر شکیل احمد کا ہے۔ شکیل احمد جامعہ میں پروفیسر رہ چکے ہیں، اب ”دی ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز ( ٹی ڈبلیو اے ایس )”، ٹرائسٹ، اٹلی میں فیلو منتخب ہوئے ہیں۔

پروفیسر شکیل احمد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایم کے گاندھی چیئر پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں ترقی پذیر ملک میں سائنس کی ترقی کے لیے اس باوقار بین الاقوامی اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ٹی ڈبلیو اے ایس تحقیق، تعلیم، پالیسی اور سفارت کاری کے ذریعے پائیدار خوشحالی کی حمایت کرتا ہے۔”دی ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز (ٹی ڈبلیو اے ایس)” ٹرائسٹ، اٹلی دیلو منتخب ہونے والے شکیل احمد نے ہائیڈرولوجی کے ماہرپروفیسر احمد نے جامعہ (2018-2020) میں اپنے دو سال کے مدت کار کے دوران سینٹر فار ڈیزاسٹر مینجمنٹ ساتھ ساتھ شعبہ جغرافیہ میں تحقیق کی۔ان کے پاس پانی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق قدرتی آفات میں جدید ترقی سکھانے کا بھرپور تجربہ ہے۔جامعہ میں پروفیسر احمد کی شراکت غیر معمولی رہی ہے،انہوں نے اعلیٰ اثر والے معیاری بین الاقوامی جرائد میں 13 سے زیادہ تحقیقی مقالے شائع کیے اور آئی این ایس اے کے ساتھ ساتھ اسپرنگر اور ایلسیوائرکے ذریعہ شایع کردہ تین کتابوں میں میں اہم رول نبھایا ہے۔

جامعہ میں اپنے دور میں پروفیسر شکیل احمد کو انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی (آئی این ایس اے) کا فیلو بھی منتخب کیا تھا۔پروفیسر احمد ہندوستان سے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کریں گے، جس میں شعبہ جغرافیہ، جامعہ کے پروفیسر عتیق الرحمن اور ہندوستان کے کئی دیگر سائنس داں /ماہرین شامل ہوں گے، اس کے ساتھ فرانس کے ایک وفد کے ساتھ ‘پانی کے انتظام پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات مئی 2022 میں بحث کریں گے۔جامعہ میں شامل ہونے سے پہلے، انہوں نے سی ایس آئی آر کے نیشنل جیو فزیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، حیدرآباد میں 37 سال تک سائنسدان کے طور پر کام کیا اور انسٹی ٹیوٹ کے سب سے سینئر چیف سائنٹسٹ کی سطح پر پہنچ گئے۔ انہوں نے جغرافیائی سائنس پر قومی اور بین الاقوامی منصوبوں کی ایک بڑی تعداد کی قیادت کی ہے جس میں ہندوستان میں نیشنل ایکویفر میپنگ کے میگا پروگرام میں ان کا اہم کردار بھی شامل ہے۔

پروفیسر احمد ایشین یونیسکو کے فلیگ شپ پروگرام کے سیکرٹری کے طور پر جی ڈبلیو اے ڈی آئی کے سیکرٹریٹ کا انتظام کر رہے ہیں۔ وہ پہلے ہی کئی اور ایوارڈز کے حاصل کر چکے ہیں، بشمواس ایوارڈ میں نیشنل جیولوجی ایوارڈ اور بین الاقوامی انعام برائے ہائیڈرولوجی شامل ہیں۔پروفیسر احمد تقریباً 2 دہائیوں تک حیدرآباد میں ‘انڈو-فرنچ سینٹر فار گراؤنڈ واٹر ریسرچ’ کے بانی سربراہ کے طور پر سربراہ رہے ہیں۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فیلو اور کشمیر یونیورسٹی کے وزٹنگ پروفیسر رہ چکے ہیں اور اس وقت مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد میں اسکول آف سائنسز میں کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔اس رپورٹ میں، ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ جامعہ فیکلٹی ڈاکٹر منصف کی ٹیم کی طرف سے ایجاد کردہ ‘مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈسٹبن’ کو آسٹریلوی حکومت نے انٹلیکچوئل پراپرٹی کے طور پر پیٹنٹ دیا ہے۔ ڈاکٹر منصف کے مطابق اس ‘آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیسڈ ڈسٹبن’ کا بنیادی مقصد ڈسٹبن کو اسمارٹ بنانا ہے تاکہ اس میں پھینکے جانے والے نقصان دہ اشیائ کے بارے میں اشارہ بھیج کرآگاہ کر دے۔کوڑے دان میں سینسر لگائے گئے ہیں جو اس میں پھینکی گئی کسی بھی نقصان دہ چیز کے بارے میں سگنل بھیجیں گے۔اس ایجاد کے بارے میں ڈاکٹر منصف عالم کا کہنا ہے کہ ”ہم نے یہ ڈسٹبن حفاظتی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا ہے، تاکہ ڈسٹبن انسان کی طرح برتاؤ کرے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ذہانت سے کام کرے۔یہ معاشرے کے لئے ایک مفید ایجاد ثابت ہوگا۔