Kabul governor Qari Baryal is notorious terrorist and close to ISI

نئی دہلی:طالبان نے ایک بار پھر اس وقت ہند مخالف ہونے کا ثبوت دیا ہے جب اس نے کابل میں ہندوستانی سفارت خانے پر حملہ کرنے والے دہشت گرد قاری بریال کو افغان دارالحکومت کا نیا گورنر مقرر کر دیا ۔ قاری بریال کو القاعدہ اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ قاری بریال کو کابل کا گورنر مقرر کرنے کے فیصلے کو ہند کے خلاف اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ کابل میں ہندوستانی سفارت خانے پر حملہ کرنے والے گروپ کی طرف سے طالبان کی جانب سے یہ دوسر بڑا تقرر ہے۔

بریال ایک اور بڑا دہشت گرد نام ہے جسے طالبان نے کابل پر حملے کے بعد مقرر کیا ہے۔ اس سے قبل کابل پر حملہ کرنے والے ملا تاج میر جوال کو بھی طالبان نے خفیہ ایجنسی میں اہم ذمہ داری دی تھی۔ حکومت ہند کے اعلی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کو ہندوستان نے پسند نہیں کیاہے۔ یہ تقرر ممکنہ طور پر بھارت اور طالبان کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

بریال کا نیٹ ورک اتنا مضبوط ہے کہ اس پر اکثر کابل میں طالبان، القاعدہ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، اسلامک جہاد یونین، ترکستان اسلامک پارٹی اور حزب اسلامی گلبدین جیسی تنظیموں کے جنگجوں کے حملے کرتا رہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ تدفین کے پاکستانی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی) اور اس کے اتحادی گروپوں سے قریبی روابط ہیں۔ بریال کو حملے کے لیے ایران کے باغی گروپ سے پیسے ملتے رہتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بریال اور اس کا نیٹ ورک پاکستان سے کابل تک اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور خودکش اسکواڈ پہنچانے کا کام کر رہا ہے۔