Sudan's military reinstates ousted civilian PM Hamdok

خرطوم :(اے یو ایس ) سوڈان میں گذشتہ ہفتہ فوجی بغاوت کے بعد معزول کر کے نظر بند کر دیے جانے والے سوڈانی وزیر اعظم عبد اللہ حمدوک کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر پھر سے بحال کر دیا گیا۔وہ زبردست عوامی احتجاج کے دمیان بغاوت کرنے والی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے ٹی وی پر نمودار ہوئے۔اس معاہدے کے تحت ایک نئی حکومت تشکیل دی جائے گی جس میں فوج کی بھی شراکت ہو گی۔ اس سے قبل دونوں شخصیات کے بیچ متعدد نکات پر اتفاق رائے ہو چکا تھا ۔یہ برطرف وزیر اعظم حمدوک کو نظر بند کیے جانے کے بعد البرہان کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات تھی۔

معلومات کے مطابق عامی شخصیات نے دونوں شخصیات کے بیچ ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملاقات میں حمدوک تمام سیاسی گرفتار شدگان کی رہائی پر م±صر رہے۔ اس معاملے پر موافقت ہو گئی ہے۔مزید یہ کہ برطرف وزیر اعظم نے شرط رکھی ہے کہ ان کا تقرر مسلح افواج کے سربراہ کی جانب سے عمل میں نہیں آئے گا۔ اسی طرح انہوں نے ٹیکنوکریٹس کی حکومت تشکیل دینے کے موقف پر قائم رہنے کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 25 اکتوبر (2021 ) کو سوڈانی فوج کے سربراہ نے حکومت اور سابق خود مختار کونسل کو تحلیل کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر سوڈان کو دوبراہ جمہوریت کے راستے پر لانے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔دریں اثنا غیر فوجی اتحاد نے، جس نے دو سال قبل مسٹر حمدوک کو وزیر اعظم نامزد کیا تھا، کسی بھی نئے معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس اتحاد کے ایک ترجمان نے بتایا کہ معاہدے پر دستخط بندوق کی نال پر کرائے گئے ہیں۔