Three coal miners shot dead in Pakistan’s Balochistan province

کوئٹہ :(اے یو ایس ) بلوچستان میں ہرنائی کے علاقے زالاوان میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 3 کان کنوں کو قتل کردیا۔ہرنائی ضلع کے ڈپٹی کمشنر سہیل ہاشمی نے بتایا کہ حملہ آور صبح کوایک کوئلہ کان پہنچے اور کان کنوں پر فائرنگ کردی جس میں 3 کان کن موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق ہلاک ہونے والی کان کنوں کا تعلق افغانستان کے شہر قندھارسے تھا۔واقعے کے بعد لاشوں کی میڈیکو لیگل کارروائی کے لیے شاہرگ میں موجود ہیلتھ سینٹر پہنچایا گیا۔

پاکستان سینٹرل مائنز اینڈ لیبر فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل لالہ سلطان کے مطابق رواں برس صوبے میں تقریباً 104 کان کن جاں بحق ہوچکے ہیں۔ستمبر میں گیس لیکج کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے افراد بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کام کی ناگفتہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیم کے تجربہ کار رکن حسین نقی نے کہا تھا کہ ایچ آر سی پی کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو یہ جان کر تشویش ہوئی ہے کہ کوئلے کی کان میں کام کرنے والے رضا کاروں کے حقوق کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ایچ آر سی پی نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بلوچستان میں مزدوروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے بعد معاوضہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کم ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیگرصوبوں میں یہ لاگت تقریباً 5 لاکھ تک ہوتی ہے جبکہ بلوچستان میں یہ صرف 3 لاکھ تک ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم نے سفارش کی تھی کہ حکومت کان کنی کے شعبے کو صنعت کا درجہ دے۔تنظیم کے مطابق حکومت کان کے مالکان اور ٹھیکیداروں کو 1923 کے مائنز ایکٹ اور اس کے بعد ہونے والی ترامیم کی دفعات کے مطابق چلانے کا پابند کرے۔