1st snowfall of the year in Saudi Arabia's Alqariyatu

ریاض:(اے یو ایس ) سعودی عرب کے علاقے القریات میں اتوار کے روز سال کی پہلی برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں پورے علاقے نے سفید چادر اوڑھ لی۔اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈزیو اور تصاویر میں القریات میں برف باری کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔سعودی عرب کے ماہر موسمیات اور فلکیات کے محقق ڈاکٹر خالد الزعاق نے ٹویٹر پر ٹویٹس میں پیشین گوئی کی موسم کی تازہ لہر تیرہ دن برقرار رہے گی۔ یہ برف باری المربعانیہ سیزن میں ہونے والی بارش اور برف باری کا حصہ ہے۔ یہ سیزن جزیرة العرب میں سردیوں کی آمد کا عملی آغاز ہے جو 30 دن تک رہتا ہے۔خیال رہے کہ موسمیات کے قومی مرکزنے موسم کے بارے میں اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ الجوف، شمالی سرحدی علاقوں،، تبوک، مدینہ منورہ اور ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں اور ڑالہ باری اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔

خلیج عرب میں نچلی سطح کی ہوائیں چلنے،عسیر، الباحہ، مکہ المکرمہ، المدینہ المنورہ کی بلندیوں پر دھند چھائے جانے کا بھی امکان ہے۔جہاں ایک طرف برفباری سے القریات سفید لباس میں نظر آرہا ہے وہیں دوسری جانب سعودی عرب کے جنوبی صحرا کی تصاویر ، میں صحرا کی سنہری ریت کو تا حد نگاہ تک پھیلے دیکھا جاسکتا ہے،خوبصورت تجریدی آرٹ کے مناظر کی شکل پیش کررہے ہیں۔ فوٹوگرافر سیاف الشہرانی کے ، جنہوں نے بیشا فوٹوگرافی کلب کی بنیاد رکھی، مملکت کے جنوب میں کھینچے گئے صحرا کے یہ دلکش مناظر دل کو چھو لیتے ہیں۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ صحرا میں سفر میرے لیے ایک خیالی سفر کا تصور تھا۔ میں کیمرہ لیے اپنے دوستوں کے ساتھ شرورہ گورنری کا سفرشروع کیا۔ یہ سفرنجران سے جنوب میں تقریبا 350 کلو میٹر ہے۔ سنہری ریت اور دلفریب محل وقوع کی وجہ سے یہ علاقہ منفر مناظر سے بھرپور ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم پر چل رہے تھے تو ہم ریت اور العروق نامی بڑے اور دشوار گذار ٹیلوں سے ہوتے ہوئے شمال کی طرف چلے جو تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے پر قلعہ بئر خجیم، مغرب میں قلعہ بئر حمرا نثیل 80 کلو میٹر کی مسافر پر واقع ہے۔الشہرانی نے کہا کہ وہ 3 سال سے صحرائی سفر کے لیے منصوبہ بندی کررہا تھا۔ میں نے مملکت کے مختلف علاقوں کے اپنےسفر کے دوران صحرائی سفر کا آغازکیا۔ میرے ساتھ اس سفر میں میرے کئی دوست بھی شامل رہتے ہیں۔ وہ بھی میری طرح صحرا کے سفرمیں دلچسپی رکھتے ہیں۔