Banking system in Afghanistan on the verge of collapse : UNO

اقوام متحدہ: (اے یو ایس ) اقوام متحدہ نے افغانستان کے بینکوں سے متعلق ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کرنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہریوں کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی نہ کرنا، رقم جمع نہ ہونا اور نقد کی لیکویڈیٹی کی وجہ سے مالیاتی نظام چند کے مہینوں کے اندر اندر تباہ ہوسکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے بینکاری اور مالیاتی نظام سے متعلق اقوام متحدہ کی تین صفحات پر مشتمل رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ’ یو این ڈی پی‘ کا کہنا ہے کہ بینکاری نظام کے بحران سے معیشت پر ’بہت زیادہ‘ منفی سماجی اثرات مرتب ہوں گے۔15 اگست کو مغرب کی حمایت یافتہ حکومت ہٹانے اور طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد غیر ملکی ترقیاتی تعاون کے اچانک روک دیا گیا جس کے بعد معیشت بحران کا شکار ہے اور بینکاری کے نظام پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

یاد رہے کہ ملک میں بینک سے ہفتہ وار رقم نکالنے کی حد مقرر کردی گئی ہے تاکہ بینکوں سےتیزی سےرقم نکالنے کے عمل کو روکا جاسکے۔یو این ڈی پی نے رپورٹ میں کہا کہ ’افغانستان کا مالیاتی اور بینک ادائیگی کا نظام بے ترتیبی کا شکار ہے،بینکوں کو درپیش مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ افغانستان کی پیداوار کی صلاحیت کو بڑھایا جائے اور بینکاری کے نظام کو تبای ہونے سےروکا جائے‘۔طالبان رہنماو¿ں کے لیے بین الاقوامی پابندیوں کے باعث بحران سے بچنے کا راستہ نکالنا مشکل عمل ہے۔یو این ڈی پی کے سربراہ عبداللہ الدرداری نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ’ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا جس میں یہ بات یقینی بنائے جائے کہ اگر ہم بینکاری کے نظام کے لیے تعاون کر رہے ہیں تو ہم طالبان کی حمایت نہیں کر رہے ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بہت پچیدہ حالات میں ہیں اس لیے ہمیں تمام تر ممکنہ اختیارات پر غور کرتے ہوئے دائرہ کار سے باہر جاکر سوچتا ہوگا‘۔انہوں نے کہا کہ ’تین مہینے پہلے جو ناقابل تصور ہوا کرتا تھا اب اس پر سوچنے کا عمل شروع کرنا ہے‘۔طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے بھی افغانستان کا بینکاری کا نظام تباہ حالی کا شکار تھا، لیکن اس وقت ترقیاتی امداد فراہم کی جارہی تھی۔افغانستان کے اربوں ڈالرز کے اثاثے بیرون ملک میں منجمد ہیں، اقوام متحدہ اور امدادی گروپ اب ملک میں کافی رقم کے فراہم کرنے کے جدوجہد کر رہی ہیں۔