China will not 'bully' smaller countries, Xi tells ASEAN leaders

بیجنگ:(اے یوایس)چین کے صدر شی جنپنگ نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنطیم آسیان کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ چین چھوٹے ہمسایہ ممالک کے ساتھ زور زبردستی نہیں کرے گا۔دس جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ورچوئل اجلاس کا آغاز پیر کو ہوا ہے جس سے چین سیمت رکن ممالک کے سربراہان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

اجلاس سے خطاب میں صدر شی جنپنگ نے مزید کہا کہ چین کبھی بھی تسلط قائم کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنے سائز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چھوٹے ممالک کو ہراساں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ آسیان ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ مداخلت کو ختم کیا جا سکے۔خیال رہے کہ بیجنگ نے بحیرہ جنوبی چین پر دعوے نے متعدد علاقائی ممالک سیمت جاپان سے لے کر امریکہ تک خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔صدر شی جنپنگ نے چین سے متعلق خدشات کو دور کرتے ہوئے کہا کہ ’چین آسیان ممالک کا اچھا ہمسایہ ، اچھا دوست اوراچھا شراکت دار رہا ہے اور رہے گا۔‘انہوں نے ویتنام جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین اور آسیان ممالک نے سرد جنگ کی تاریکی سے نجات حاصل کر لی ہے جب علاقہ سپر پاورز کے درمیان مسابقت اور تنازعے کا شکار تھا اور مل کر علاقائی استحکام قائم رکھا۔

علاوہ ازیں جب بھی امریکہ نے چین کے بڑھتے ہوئے عسکری اور معاشی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش میں علاقائی اتحادیوں سے بات چیت کی کوشش کی چین نے امریکہ کو ’سرد جنگ ذہنیت‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔آسیان ممالک کے اکتوبر میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی شرکت کی تھی جس سے خطاب میں انہوں نے علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔آسیان کے رکن ممالک میں برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویتنام شامل ہیں جبکہ پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیائی ممالک شراکت دار کے طور پر تنظیم کے ساتھ منسلک ہیں۔