Saudi girls 'dream' big with launch of soccer league

ریاض:(اے یو ایس ) سعودی عرب میں چند سال قبل خواتین کے فٹ بال گیم میں حصہ لینے اور اس کی تربیت وغیرہ حاصل کرنے پر عشروں سے عائد پابندی اٹھالیے جانے کے بعد اب مملکت اپنی ایک خواتین فٹ بالرز کی قومی ٹیم تشکیل دینے کے ساتھ اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت دلوا کر بڑے عالمی فٹ بال ایونٹس میں شرکت کے لیے تیار کر رہی ہے۔ سعودی عرب میں یوں تو گزشتہ چند سالوں کے اندر کئی اصلاحاتی پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں لیکن اس سلسلے میں رواں ماہ سعودی فٹ بال فیڈریشن کی طرف سے خواتین فٹ بال لیگ کے قیام کا اعلان تازہ ترین اور اہم ترین قدم سمجھا جا رہا ہے۔اس اعلان میں کہا گیا کہ خواتین فٹ بالرز کی 16 ٹیمیں ‘ویمنز سوکر لیگ‘ میں شامل ہوں گی۔ یہ ٹیمیں ریاض، جدہ اور دمام میں ہونے والے گیمز میں حصہ لیں گی۔

سعودی عرب کی خواتین کو فٹ بالر بننے کی اجازت ملنے سے بہت سی خواتین انتہائی خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔بہت ہی جوش وخروش کا مظاہرے کرنے والی فراح جعفری نے اپنی دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کر رہی ہیں کہ وہ انگلینڈ کی ٹاپ کی ٹیم میں کھیلنے کے ساتھ ساتھ ورلڈ کپ کے سب سے بڑے فٹ بال اسٹیج پر اپنے ملک سعودی عرب کی نمائندگی کریں گی۔انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ”اپنے فٹ بال کے سفر کے آغاز میں مجھے کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تمام لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ جرسی میں ملبوس اور ایک پونی ٹیل بنائے فراح جعفری کا مزید کہنا تھا کہ میرے گھر والے اور دوست میری بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ فٹ بال کی شوقین بہت سی دیگر سعودی لڑکیوں کی طرح فرح بھی ماضی میں فٹ بال کھیلنے سے قاصر تھیں۔

وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ یا اسکول میں دوستوں کے ساتھ فٹ بال کھیلا کرتی تھیں۔ فراح نے بتایا کہ اس کے پاس صرف ایک متبادل شوق ٹیلی وڑن پر کھیلوں کے مقابلے دیکھنا تھا۔حکام کے مطابق فراح جعفری ان 30 کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جنہیں سعودی فٹ بال اسکواڈ کا حصہ بننے کے لیے 400 امیدواروں میں سے منتخب کیا گیا ہے۔ فرح نے کہا کہ وہ ط ا±س دن کا خواب دیکھ رہی ہیں جس روز وہ ورلڈ کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کر سکیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ انگلش ٹیم مانچسٹر سٹی کے لیے بھی کھیلنے کی امید رکھتی ہیں۔ریاض کے پرنس فیصل بن فہد اسٹیڈیم میں تربیتی سیشن کے دوران قومی ٹیم میں شامل خواتین پرجوش انداز میں میدان میں اترتی ہیں۔ ان میں سے کچھ بغیر نقاب یا برقعے کے لیکن اپنی شارٹس کے نیچے لمبے ٹریک سوٹ پہنتی ہیں۔حکام نے ابھی تک سعودی خواتین کے لیے کھیلوں کے لباس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے جبکہ ماضی میں ان پر سعودی عرب کی مذہبی پولیس کی طرف سے سخت ”ڈرس کوڈ“ نافذ تھا۔