Alibaba profit tumbles, outlook lowered as China reins in tech

بیجنگ: چینی حکومت کے ذریعہ ملک کی بڑی ٹیک کمپنیوں پر لگام لگانے کے لئے چلائی جارہی مہم سے کئی بڑی ای کمنپنیوں پر زبردست منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اس ضمن میں ای کامرس سیکٹر کی بڑی چینی کمپنی علی بابا گروپ نے بتایا کہ حالیہ سہ ماہی میں اس کے منافع میں 81 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ علی بابا کے منافع میں یہ بڑی کمی ایسے وقت میں آئی ہے جب چین کی شی جن پنگ حکومت اپنے ملک کی بڑی ٹیک کمپنیوں پر لگام لگانے کے لیے کارروائی کر رہی ہے جس کی وجہ سے چینی ٹیک کمپنیوں کی آمدنی اور منافع میں زبردست کمی ہو رہی ہے۔

چینی ای کامرس کمپنی علی بابا کی مایوس کن کمائی کی وجہ سے ایشیائی حصص میں جمعہ کے روز گراوٹ آئی ، جس سے بیجنگ کی وسیع ریگولیٹری کارروائی اور دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت میں سست ترقی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ علی بابا کے حصص جمعہ کو 11 فیصد تک گر گئے۔ علی بابا میں 10.7 فیصد کی گراوٹ آئی ہے، جو نومبر 2019 میں شہر میں لسٹڈ ہونے کے بعد سے سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ علی بابا بتایا کہ جولائی تا ستمبر سہ ماہی میں اس کا منافع کم ہو کر 5.37 بلین یوآن ($833 ملین)ہو گیا، جو پچھلے مالی سال کی اسی ہانگزو شہر کے صدر دفتر علی بابا نے بتایا کہ حالانکہ اس نے ستمبر کی سہ ماہی میں آمدنی میں اضافہ درج کیا تھا کیا تھا اور یہ تقریباً 29 فیصد سے 200.7 بلین تک رہا۔ گزشتہ مالی سال کی اس سہ ماہی میں بھی کمپنی کی آمدنی میں تقریبا اتنا ہی اضافہ دیکھا گیا تھا۔

علی بابا نے کہا کہ اس کی آمدنی کا زیادہ تر حصہ ای کامرس سیکٹر سے آیا ہے۔علی بابا کی آمدنی کے نتائج کو پوری دنیا میں دیکھا گیا تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ چینی حکومت کی جانب سے بڑی ٹیک کمپنیوں پر لگام لگانے کا اقدام اس کی سب سے اعلی پروفائل کمپنیوں میں سے ایک کو کس طرح متاثر کرے گا۔ چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی نے ملک میں ڈیجیٹل انقلاب کو آگے بڑھانے کے لیے پہلے اپنی بڑی ٹیک کمپنیوں پر بھروسہ کیا تھا۔ تاہم، گزشتہ سال کے آخر میں، وہ اچانک ان کمپنیوں پر سخت ہو گئیں۔ ٹیک کمپنیوں کی تیزی سے توسیع، مارکیٹ میں اجارہ داری قائم کرنے کی کوششوں اور ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق خدشات کے باعث چینی حکومت ان پر لگام لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

واضح ہوکہ امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ٹیک کمپنیوں کے بارے میں ایسے ہی سوالات اٹھتے رہے ہیں لیکن اب تک ان کمپنیوں پر چین کی طرح کارروائی دیکھنے یا سننے کو نہیں ملی ہے۔ علی بابا چینی حکومت کے غصے کا پہلا شکار بنی تھی۔ اس کی وجہ بھی علی بابا کے بانی جیک ما کے ایک بیان کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں جیک ما نے چین کے مالیاتی نظام پر تنقید کی تھی۔ تب سے چین میں علی بابا کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ جیک ما خود بھی اس کی وجہ سے عوام میں غائب رہے تھے۔علی بابا گزشتہ سال امریکہ، ہانگ کانگ اور شنگھائی میں اسٹاک ایکسچینج پر اپنے آئی پی او کو لسٹ کرانے کی تیاری کر رہا تھا۔ لسٹ ہونے پر یہ دنیا کا اب تک کا سب سے بڑا آئی پی او ہوتا۔ اسے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی اچھا رسپانس ملا لیکن لسٹنگ سے صرف دو روز قبل چینی حکومت نے ایک غیر متوقع قدم اٹھایا اور علی بابا کو آئی پی او کے لیے دی گئی منظوری واپس لے لی۔