Cryptocurrency bill among 26 to be introduced in winter session of Parliament

نئی دہلی: حکومت نے 29نومبر سے پارلیمنٹ کے شروع ہونے والے سرمائی اجلاس کے دوران کریپٹو کرنسیوں کو ریگولیٹ کرنے کا بل پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آفیشل ڈیجیٹل کرنسی بل 2021 برائے کریپٹو کرنسی اور ریگولیشن، ان مجموعی 26 بلوں میں سے ایک ہے جو پیش کیے جانے کے لیے درج کیے گئے ہیں۔ یہ کرپٹو فنانس کے وسیع فریم ورک پر پارلیمانی پینل کی پہلی بحث کے ایک ہفتے بعد آیا ہے، جہاں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا تھا کہ کرپٹو کرنسیوں کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن ان کو ریگولیٹ کیا جانا چاہیے۔ 23 نومبر کو جاری ہونے والے لوک سبھا کے بلیٹن II کے مطابق، اس مجوزہ بل کو لانے کے پیچھے دو مقاصد ہیں۔ اس بل میں ہندوستان میں تمام قسم کی پرائیویٹ کریپٹو کرنسیوں پر پابندی لگانے کی تجویز شامل ہے سوائے کچھ استثنا کے۔

اس میں کچھ استثنیٰ کا بھی انتظام ہے تاکہ کرپٹو کرنسی سے متعلق ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔ نیز، اس بل میں ریزرو بینک آف انڈیا کی طرف سے جاری کی جانے والی آفیشل ڈیجیٹل کرنسی کے لیے ایک سہولتی فریم ورک تیار کرنے کا انتظام ہے۔حکومت نے اجلاس کے دوران اپنے ایجنڈے میں جن 29 بلوں کو شامل کیا ہے ان میں یہ 26 بل پہلی بار پیش کیے جارہے ہیں ۔ منگل کو جاری کردہ لوک سبھا کے بلیٹن کے مطابق، ایک بل دی فارم لاز ریپیل بل، 2021 تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے لیے شامل ہے۔ اس بل کے ذریعے حکومت نے گزشتہ سال مانسون سیشن کے دوران زرعی اصلاحات کے تین قوانین پاس کیے تھے ۔

جس پر کسانوں نے ایسی احتجاجی تھریک چلائی کہ حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔جس کے بعد آر ایس ایس نے مرکزی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حساس معاملے پر جامع بحث کے بعد ہی آگے بڑھیں۔ آر ایس ایس کے لیڈروں کا ماننا ہے کہ مرکزی حکومت کو اتفاق رائے پیدا کرنے کے بعد اور آبادی کنٹرول بل یا یکساں سول کوڈ جیسے اہم مسائل پر قانون بنانے کے لیے وسیع بحث کے بعد آگے بڑھنا چاہیے ۔ ذرائع کے مطابق آبادی پر قابو پانے والے جیسے قوانین اہم ہیں لیکن انہیں غور و فکر کے بعد آگے بڑھانا چاہیے کیونکہ ان کے حوالے سے معاشرے کے طبقے میں خدشات اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ سنگھ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے مسائل پر اتفاق رائے قائم کرنے سے سماج میں تناو¿ کے خدشات کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔