Pak pilgrims pray for peace at Nizamuddin dargah

نئی دہلی:(اے یو ایس ) پاکستان کے 60 عقیدت مندوں نے پیر کے روز دوپہر کے وقت راجدھانی دہلی کی مشہور ومعروف درگاہ حضرت نظام الدین پر حاضری دی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کرتارپور گلیارے کو دوبارہ کھولنے کے اعلان کے ساتھ ہی ہندوستان نے پاکستان کے عقیدت مندوں کو ہندوستان آنے کی اجازت دی تھی۔ کورونا وبا کے دوران عقیدتمندوں کے پاکستان سے ہندوستان اور ہندوستان سے پاکستان آنے جانے پر پابندی تھی۔ حالانکہ اب 1974 کے دو طرفہ معاہدے کے تحت عقیدت مندوں کی آمدورفت پھر شروع ہوگئی ہے۔ حضرت نظام الدین اولیا کے 718 ویں عرس کے موقع پر پاکستانی عقیدت مند 18 نومبر سے 25 نومبر تک ہندوستان کے دورے پر ہیں۔

درگاہ حضرت نظام الدین پر زیارت کے لیے آئے محمد ارشد نے نیوز 18 سے کہا کہ وہ لاہور سے پہلی بار ہندوستان آئے ہیں، انہیں ہندوستان آکر بہت اچھا لگا اور سفر کے دوران انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ ایک دیگر عقیدت مند نے کہا کہ انہیں ہندوستان میں بہت پیار ملا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بچپن کی خواہش تھی کہ وہ نظام الدین درگاہ پر حاضری دیں، جو اب پوری ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دعا کی کہ دونوں ممالک کے د رمیان کشیدگی کم ہو، رشتے اچھے ہوں اور عقیدتمندوں کا آجانا برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ ویزا پالیسی آ سان ہونی چاہئے، تاکہ عقیدتمند آسانی سے سفر کرسکیں۔پاکستانی عقیدتمندوں کے ساتھ درگاہ پر آئے پاکستان کے کارگزار ڈپٹی ہائی کمشنر آفتاب حسن مےڈےا کہا کہ عرس کے موقع پر پاکستان سے 60 عقیدتمند آئے ہیں، کوویڈ کے سبب کچھ وقت کے لئے آمدورفت بند رہی، لیکن اب دوبارہ شروعات ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1974 کے پروٹوکول کے تحت عقیدتمند آجا رہے تھے۔

آفتاب حسن نے کہا کہ امید ہے کہ عقیدتمندوں کا آنا جانا مستقبل میں بھی جاری رہے گا اور یہ ہندوستان-پاکستان دوطرفہ تعلقات کے لئے خوش آئند اشارے ہیں۔ہندوستان-پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود ایک بار پھر مذہبی ڈپلومیسی مضبوط ہو رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے مودی حکومت نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرتار پور گلیارے کو ایک بار پھر سے عقیدت مندوں کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ گرو پرب کے موقع پر سکھ عقیدتمندوں کے جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا تھا۔ ساتھ ہی واگہہ – اٹاری سرحد سے تقریباً ڈھائی ہزار سکھ عقیدتمندوں کا جتھہ پاکستانی دورے پر گیا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ 1974 کے معاہدے کے سبب ہندوستان اور پاکستان کے عقیدتمند ایک دوسرے ملک جاکر مذہبی مقامات کا دورہ کرسکتے ہیں۔