Saudi led military coalition destroys Houthi ballistic missile sites in Sanaa

صنعا:(اے یو ایس ) یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب قیادت والے عسکری اتحاد نے منگل کے روز علی الصباح صنعا میں ذہبان کے علاقے میں بیلسٹک میزائلوں کی ایک بڑی فیکٹری سمیت بیلسٹک میزائلوں کے کئی ٹھکانے تباہ کر دیے۔ ایک ویڈیو کلپ میں ، جو وائرل ہو رہی ہے،صنعا میں حوثیوں کے بیلسٹک میزائلوں کے ڈپوؤں پر اتحادی طیاروں کے حملوں کے بعد ہونے والے دھماکے سنائی اور ان سے ہونے والی تباہی کے مناظردکھائی دے رہے ہیں۔عرب اتحاد کے مطابق حوثی ملیشیا کی جانب سے اسپتالوں اور شہریوں کو انسانی ڈھال بنایا گیا ہے۔

اتحاد نے واضح کیا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ کارروائی بین الاقوامی انسانی قانون سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔العربیہ کو پیر کے روز عرب اتحاد سے وڈیو کلپ موصول ہوئے۔ ان وڈیو کلپوں میں اقوام متحدہ کے طیاروں پر حوثی ملیشیا کی تربیت کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کا مقصد فضائی میزائل نظام کا تجربہ کرنا ہے۔وڈیو سے ظاہر ہوا کہ تجربات کی کارروائی کی نگرانی کرنے والا ایک غیر ملکی ہے۔ اس سے ثبات ہوتا ہے کہ ایرانی پاسدران انقلاب اور لبنانی حزب اللہ کے عناصر دشمن کارروائیوں اور سمندری جہاز رانی اور عالمی تجارت کے لیے سنگین خطرات میں ملوث ہیں۔ویڈیو کے مناظر میں عرب اتحاد کے ان بیانات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو انہوں نے صنعا ہوائی اڈے کو حوثیوں کی جانب سے عسکری بیرک میں تبدیل کرنے کے حوالے سے جاری کیے۔ اس بیرک میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی تنصیب، جمع کرنے اور ان کو دھماکا خیز بنانے کا کام انجام پاتا ہے۔

ان مناظر پر تبصرہ کرتے ہوئے عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیر جنرل ترکی المالکی نے باور کرایا کہ ایران نے یمنی دارالحکومت کے ہوائی اڈے کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے 2014 میں فضائی پل استوار کیا گیا۔ اس کے تحت ہر ہفتے ایرانی فضائی کمپنی (ماہان ایئر) کی 28 پروازیں تہران سے صنعا آتی ہیں۔ ان پروازوں کے ذریعے ہر طرح کا اسلحہ حوثی ملیشیا تک پہنچایا گیا۔یاد رہے کہ صنعاءکا ہوائی اڈا اقوام متحدہ کی جہاز رانی اور غیر سرکاری بین الاقوامی تنظیموں کے واسطے کھلا ہوا ہے۔ اس کا مقصد انسانی امدادات کو منتقل کرنا ہے۔ لہذا ہوائی اڈے پر حوثیوں کی جانب سے مذکورہ تجربات اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کے طیاروں کی فضائی حدود اور ان کے ملازمین کی زندگی کے لیے براہ خطرہ ہیں۔