US lawmaker welcomes withdrawal of farm laws in India

واشنگٹن: گورو نانک جینتی کے موقع پر مرکز کی مودی حکومت نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کر کے ہم وطنوں کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے جہاں ملک کے کسانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ جشن منا رہے ہیں وہیں بیرون ممالک میں اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔

امریکی قانون ساز اینڈی لیون نے ہندوستان میں تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی قانون ساز نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مزدور اور کسان دنیا کی کسی بھی بڑی طاقت کو شکست دے سکتے ہیں۔کانگرس کے رکن اینڈی لیون نے جمعہ کو کہا،یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ احتجاج کے ایک سال سے زیادہ عرصے کے بعد، ہندوستان میں تین زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ہندوستان اور دنیا بھر کے کارکن اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ کارپوریٹ مفادات کو شکست دے سکتے ہیں اور ترقی کر سکتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو زراعت کے تین قوانین کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان بلوں کو لے کر ملک کے کسان گزشتہ سال سے احتجاج کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے احتجاج کرنے والے کسانوں سے گھر واپس چلے جانے کی اپیل کی ہے۔گورو نانک جینتی کے مبارک موقع پر جمعہ کو قوم سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ قوانین کسانوں کے فائدے کے لیے ہیں لیکن انہوں نے عوام سے معافی مانگی کہ حکومت کسانوں کے ایک طبقہ کوراضی نہیں کر سکی۔