US-Taliban to resume talks with a focus on counterterrorism operations

واشنگٹن:امریکی محکمہ خارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی اور طالبان عہدیداران داعش خراسان ، القاعدہ کے خلاف انسداد دہشت گردی کارروائیوں، انسانی امداد اور افغانستان میں اقتصادی بحران پر تبادلہ خیال کے لیے آئندہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دوبارہ مذاکرات کریں گے۔امریکہ اور طالبان کے مذاکرات جو فروری 2020 یا دلاتے ہیں، جب سیاسی تصفیہ میں مدد کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان افغانستان امن عمل پر ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جو بالآخر ناکام ہو گئے اور طالبان نے افغان صدر محمد اشرف غنی کے فرار ہو جانے کے بعد 15 اگست 2021 کو بزور طاقت اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

معاہدے کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس میں کچھ پوشیدہ دفعات تھیں جن کا آج تک کسی کو علم نہیں ہو سکا ۔امریکی وزارت خارجہ نے منگل کو اعلان کیا کہ افغانستان کے لیے اس کے خصوصی نمائندے ٹام ویسٹ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے ساتھ دو ہفتے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے اگلے اجلاس میں امریکی وفد کی سربراہی کریں گے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہفریقین ہمارے اہم قومی مفادات پر تبادلہ خیال کریں گے، جس میں دولت اسلامیہ فی الاعراق و الشام ( آئی ایس آئی ایس ) اور القاعدہ کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں، انسانی امداد، افغانستان کی تباہ حال معیشت، اور 20سالہ جنگ کے دوران امریکہ کے لیے کام کرنے والے امریکی شہریوں اور افغانوں کے لیے افغانستان سے محفوظ انخلا شامل ہے۔ ٹام ویسٹ تقریباً چھ ہفتوں سے امریکہ کے نمائند خصوصی براائے افغان مفاہمت کے عہدے کے فرائض ادا کر رہے ہیں ان سے پہلے زلمے خلیل زاد افغانستان کے امن عمل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے یہی فریضہ انجام دے رہے تھے۔