Pollution-related illness major cause of death in Kabul: Experts

کابل: افغانستان کے محکمہ صحت کے عہدیداران کے مطابق فضائی آلودگی کے مضر اثرات سے کابل کے رہائشیوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔بدھ کے روز کابل میونسپلٹی نے کابل میں ماحول کے تحفظ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے یورپی یونین کے اشتراک سے ایک اجلاس کیا۔یہ اجلاس اس وقت منعقد کیا جاتا ہے جب ملک کے محکمہ ماحولیات کا کوئی انچارج نہیں ہوتا۔

کابل کے محکمہ برائے ماحولیاتی تحفظ کے ڈائریکٹر حسن غلای کا کہنا ہے کہ ہر 100,000 میں سے 406 افراد فضائی آلودگی کے نتیجے میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ حسن غلامی نے مزید کہا کہ 26 فیصد اموات ملک میں فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوئیں، جس سے شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ۔ان کے بقول کابل کی 2500 بلند و بالا عمارتوں میں سے صرف 289 بلند و بالا عمارتوں پر ہی فضائی آلودگی پر کنٹرول کرنے والے آلات نصب کیے گئے ہیں جو کہ کابل میں آلودگی کے مقابلے میں بہت کم تعداد ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 26 فیصد اموات فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

دوسری جانب کابل میونسپلٹی کے اہلکاروں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار اد ا کریں اور محکمہ کا ساتھ دیں۔کابل کے ڈپٹی میئر احمد اللہ مومند نے کہا کہ ماحول کا تحفظ انسان کے ثقافتی اور مذہبی فرائض میں سے ایک ہے۔ دریں اثنا، امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ حکومت جلد ہی محکمہ ماحولیات کے سربراہ کا تقرر کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک محکمہ ماحولیات کا کوئی نگراں نہیں ہے۔ اور وہ زیادہ فعال نہیں ہے ۔ لیکن ان شا اللہ اس دفتر کو فعال کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے۔