Bennett: Israel ‘fell asleep’ after 2015 nuclear deal, won’t be bound by new pact

َؒ َؒتل ابیب:(اے یو ایس ) اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف کارروائی کرنے کی اپنی آزادی کو برقرار رکھے گا خواہ امریکہ 2015 کے ایران معاہدے میں واپس ہی کیوں نہ آجائے۔ریخ مین یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اینڈ سٹریٹیجی میں ایک تقریب سے خطاب میں بینیٹ نے کہا کہ ایران کے ساتھ اسرائیل کا تصادم واقعی پوری دنیا کی ایک انتہا پسند حکومت کے خلاف جنگ ہے جو ایک جوہری چھتری کے نیچے شیعہ تسلط کی تلاش میں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ دنیا اسے نظر انداز نہیں کرے گی لیکن اگر انہوں نے ایسا کیا تو ہم ایسا نہیں کریں گے۔

بینیٹ نے وضاحت کی کہ موجودہ دور “پیچیدہ” ہے کیونکہ اسرائیل اپنے سب سے بڑے اتحادی(امریکا)کے ساتھ بعض معاملات پر اختلاف رکھتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ امریکا اور ایران 2015 کے مشترکہ جامع پلان آف ایکشن میں واپسی کے حوالے سے اگلے ہفتے ویانا میں بالواسطہ مذاکرات کرنے والے ہیں۔ اس کے نتیجے میں واشنگٹن پابندیاں اٹھائے گا جبکہ تہران کی یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت پر پابندیاں عائد کرے گا۔

بینیٹ نے اعلان کیا کہ “یہاں تک کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدے کی واپسی ہوتی ہے تو اسرائیل اس کا فریق نہیں ہے۔ وہ اس کا پابند نہیں ہے۔ ینیٹ نے کہا کہ مشترکہ جامع پلان آف ایکشن نے 2015 کے بعد اسرائیلی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے لیے “نیند کی گولی” کے طور پر کام کیا کیونکہ اس نے اقدامات کرنے کے لیے اسرائیل کی رضامندی کو کم کر دیا۔