Delegates leave Kabul for Doha meeting with US envoy

کابل:افغانستان کے نگراں وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں اسلامی امارت کا ایک وفد جمعرات کی شام قطر کے دارالخلافہ دوحہ پرواز کر گیا ۔جمعرات کے روز امارات کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ یہ وفد تعلیم، صحت، مالیات، سلامتی کی وزاارتوں اور دی افغانستان بینک کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی تھامس ویسٹ نے ، جو امارت اسلامیہ کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور جمعرات کو دیر گئے قطر پہنچ چکے ہیں، وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ دوحہ میں طالبان کے نمائندوں کے ساتھ افغانستان میں سلامتی، اقتصادی اور انسانی حقوق کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔وی او اے کو انٹرویو دیتے ہوئے تھامس ویسٹ نے امارت اسلامیہ کے نمائندوں سے ملاقات کی خبر کی تصدیق کی۔

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے افغان کرنسی کو بغیر کسی وجہ کے منجمد کرنے کی اطلاعات غلط ہیں۔ افغان کرنسی کو منجمد کرنے کی وجہ ایک پیچیدہ قانونی اور عدالتی مسئلہ ہے۔چسے منتقل نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں پاکستانی حکومت افغانستان میں امریکی پالیسی سے پریشان ہیں، اور ہم ایک عرصے سے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی سے پریشان ہیں۔دریں اثنا امارت اسلامیہ نے امریکی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وفد جمعرات کو کابل سے دوحہ کے لیے روانہ ہوا۔

امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان، بلال کریمی نے کہا کہ امارات اسلامیہ پڑوسی ممالک، خطے اور ر علاقائی اور دنیا کے دیگر ممالک کے تئیں معتدل اور متوازن پالیسی اختیا کرتی ہے۔اور جن ممالک کو پریشانی و فکر مندی ہے دیگر تحفظات اور رائے ہیں یہ تو یہ ان کی ددرد سری ہے ہم اس میں کچھ نہیں کر سکتے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی پاکستان سے قربت امریکہ کو پاکستان سے دور لے جارہی ہے۔سیاسی تجزیہ کار طارق فرہادی نے طلوع نیوز کو بتایا کہ امریکہ کے لیے جس بات نے مشکل بنا دی وہ فیض حامد کا دورہ اور مستقبل کی افغان کابینہ کی تشکیل میں ان کا کردار، امریکہ کے لیے اس کو پہچاننا اور پیسہ آزاد کرنا مزید مشکل بناتا ہے،” ایک سیاسی تجزیہ کار طارق فرہادی نے طلوع نیوز کو بتایا۔تھامس ویسٹ نے اسلام آباد میں ٹرائیکا پلس سربراہی اجلاس کے موقع پر امارت اسلامیہ کے بعض ارکان سے بھی ملاقات کی۔