Libya election panel rejects Gaddafi's son as presidential candidate

لیبیا:(اے یو ایس ) لیبیا میں ہائی الیکٹورل کمیشن نے نہ صرف سیف الاسلام قذافی کو اگلے ماہ (دسمبر) ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے باہر کر دیا ہے بلکہ 24 دیگر امیدوار بھی ان کے ساتھ الیکشن کی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں۔ ان میں وہ تمام امیدوار شامل ہیں جو مقتول کرنل معمر قذافی کے مقرب یا وفادار سمجھے جاتے ہیں۔الیکشن کی دوڑ سے د خارج کیے جانے والوں میں سابق قذافی حکومت کے لوگ بھی شامل ہیں جن کی قیادت البشیر صالح اور محمد احمد الشریف کر رہے تھے۔دونوں رہ نما معمر قذافی کے دور کے ستون سمجھے جاتے ہیں۔

البشیر قذافی کے والد کے دفتر کے سربراہ تھے اور انہیں مقتول کرنل قذافی کا بلیک باکس کہا جاتا تھا۔ان کے پاس قذافی خاندان کے خزانے اور افریقہ میں سرمایہ کاری کی چابیاں بھی ہیں۔قذافی کے دوسرے وفادار محمد احمد الشریف کا تعلق ہے وہ برسوں تک وزیر تعلیم کے عہدے پر فائز رہے اور اسلامی دعوت سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا نام حال ہی میں لیبیا میں متبادل امیدوار کے طور پر گردش کر رہا تھا کہ سیف ال اسلام کو انتخابی دوڑ سے خارج کر دیا گیا تو وہ ان کی جگہ قذافی کی باقیات کی قیادت کریں گے۔لیبیا کے الیکشن کمیشن نے بدھ کے روز ایک ابتدائی فیصلے میں اعلان کیا ہے کہ سابق مقتول لیڈر کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے ہیں۔ اس کے علاوہ کل 98 امیدواروں میں سے 25 امیدواروں کو نا اہل قرار دیا گیا ہے۔خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق لیبیا کے الیکشن کمیشن کے ایک ذریعے نے بدھ کے روز بتایا کہ کمیشن نے 24 دسمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں 98 رجسٹرڈ امیدواروں میں سے 25 کو نا اہل قرار دیا جا چکا ہے۔

بعد ازاں کمیشن نے ان ناموں کی مکمل فہرست جاری کر دی۔ نا اہل قرار دیے گئے امیدوار فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کرسکتے ہیں۔لیبیا کے الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس نے صدارتی انتخابات کے لیے امیدواروں کی ابتدائی فہرست کی منظوری دے دی ہے اور اس میں خلیفہ حفتر، عقیلہ صالح اور عبدالحمید الدبیبہ سمیت 73 امیدواروں کو شامل کیا گیا ہے۔قبل ازیں لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے سبکدوش ہونے والے ایلچی جان کوبیش نے بدھ کے روز خبردار کیا تھا کہ اس سال کے آخر میں طے شدہ لیبیا کے انتخابات کے انعقاد میں ناکامی صورت حال میں شدید خرابی اور مزید تقسیم اور تنازعات کو جنم دے گی۔