Magdalena Andersson: Sweden’s first female prime minister resigns just hours after being elected

اسٹاک ہوم:(اے یو ایس )سویڈن کی پہلی خاتون وزیر اعظم نے عہدہ سنبھالنے کے چند گھنٹے بعد ہی استعفیٰ دے دیا۔میگڈالینا اینڈرسن نے بدھ کے روز وزارتِ عظمیٰ سنبھالی تھی لیکن ایک روز بعد ہی ان کے اتحادیوں کے حکومت چھوڑنے اور ان کی حکومت کا بجٹ پاس نہ ہونے کے بعد انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔اس کے بعد پارلیمنٹ نے اپوزیشن کا تیار کردہ بجٹ منظور کیا۔ سویڈن کی جزبِ مخالف میں تارکین وطن مخالف، انتہائی دائیں بازو کی جماعت بھی شامل ہے۔میگڈالینا اینڈرسن نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ا سپیکر سے کہا ہے کہ وہ استعفیٰ دینا چاہتی ہیں۔‘ میگڈالینا اینڈرسن نے کہا کہ وہ ایک پارٹی حکومتی رہنما کے طور پر دوبارہ وزیر اعظم بننے کی کوشش کریں گی۔ان کے اتحادی پارٹنر، گرینز پارٹی نے کہا کہ وہ ‘دائیں بازو کے ساتھ پہلی بار تیار کردہ‘ بجٹ کو قبول نہیں کر سکتی۔

سوشل ڈیموکریٹ میگڈالینا اینڈرسن نے بدھ کے روز کہا کہ ‘یہ ایک آئینی عمل ہے کہ مخلوط حکومت کو مستعفی ہو جانا چاہیے جب کوئی ایک اتحادی پارٹی ساتھ چھوڑ دے۔ میں ایسی حکومت کی قیادت نہیں کرنا چاہتی جس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے جائیں۔‘پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ وہ اگلے اقدام پر پارٹی رہنماو¿ں سے رابطہ کریں گے۔ اقلیتی حکومت کے سربراہ کے طور پر ان کا انتخاب حزب اختلاف کی بائیں بازو کی جماعت کے ساتھ آخری لمحات میں معاہدہ ہونے کے بعد ہوا تھا، جس کے بدلے میں سویڈن کے شہریوں کی پنشن بڑھائی گئی تھی۔ انھیں اتحادی پارٹنر گرینز جماعت کی حمایت بھی حاصل تھی۔پارلیمنٹ کے 349 ارکان میں سے 174 نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔ تاہم میگڈالینا اینڈرسن کی حمایت کرنے والے 117 اراکین تھے جبکہ مزید 57 نے ووٹ نہیں ڈالا اور انہیں ایک ووٹ سے کامیابی دلائی۔میگڈالینا اینڈرسن یونیورسٹی سٹی اپسالا سے فارغ التحصیل ہیں اور ایک جونیئر سوئمنگ چیمپئن رہ چکی ہیں۔ انھوں اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1996 میں اس وقت کے وزیر اعظم گوران پرسن کی سیاسی مشیر کے طور پر کیا۔ وہ گذشتہ سات سال وزیر خزانہ کے طور پر گزار چکی ہیں۔

میگڈالینا اینڈرسن کے انتخاب سے پہلے سویڈن واحد نارڈک ریاست تھی جہاں کبھی بھی کوئی خاتون وزیر اعظم نہیں آئی تھیں۔سویڈن کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیر اعظم بننا میگڈالینا اینڈرسن کے لیے جشن کا سبب ہونا چاہیے تھا، مگر ابھی سورج غروب ہوا ہی تھا کہ انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔سویڈن کی سیاست کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہم یہ نہیں مان سکتے کہ ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو گیا ہے۔ اگر وزیر اعظم کے لیے ایک اور مرتبہ ووٹنگ ہوئی اینڈرسن شاید دوبارہ منتخب ہوجائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گرین پارٹی نے باضابطہ اتحادی پارٹنر کے طور پر چھوڑنے کے باوجود ان کی حمایت کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن وہ ایک کمزور اقلیتی حکومت کی قیادت میں ایک کمزور پوزیشن میں آجائیں گی، اور پھر بھی انھیں دائیں بازو کے بجٹ پر قائم رہنا پڑے گا جس پر پارلیمنٹ نے پہلے ہی ووٹ دیا ہے۔اس ساری سیاسی افراتفری نے جس چیز کی نشاندہی کی ہے وہ یہ ہے کہ سویڈن کی سیاست اس وقت کتنی منقسم ہے۔ ہمیں انتظار کرنا پڑے گا اور یہ دیکھنا پڑے گا کہ آیہ اگلے سال کے انتخابات میں ووٹرز دائیں یا بائیں طرف نمایاں تبدیلی کے ساتھ تعطل کو توڑتے ہیں۔