Omicron variant raises world's concern, WHO asks countries to be alert

نیو یارک: جنوبی افریقہ میں اومیکرون نام سے کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ملک کے وائرلوجسٹ ٹیولیو کی اولیویرا نے جمعرات کو میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ جنوبی افریقہ میں ملٹی پل میوٹیشن والا ڈیوڈ ویریئنٹ سامنے آیا ہے۔ جنوبی افریقہ میں سائنسدانوں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی ایک نئی قسم کا پتہ لگایا ہے جس کی شناخت 529.بی.1.1 کے نام سے ہوئی ہے۔ اس انکشاف کے بعد برطانیہ نے 6 افریقی ممالک سے پروازوں کے غیر مستقل معطلی کا اعلان کر دیا۔ پروازوں کو منسوخ کرنے کی اطلاع برطانیہ کے صحت سکریٹری ساجد جاوید نے دی۔ اس درمیان ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرس کی نئی قسم (بی.1.1.529) وبا کی دیگر اقسام کے مقابلے میں سب سے زیادہ متعدی ہے، یعنی انفیکشن پھیلنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے تمام ممالک کو اس بارے میں خبردار کیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ آن کورونا (ایس اے آر یس-سی او وی-2) نے جمعہ کو اپنے جائزے کے بعد کہا کہ کوویڈ 19 کی نئی شکل انتہائی متعدی ہے۔ گروپ نے اسے سب سے زیادہ پریشان کن شکل قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے اس وائرس کو اومیکرون کا نام دیا ہے۔ اس ضمن میں ڈبلیو ایچ او نے ایمرجنسی میٹنگ طلب کر لی ۔دریں اثنا نیوز ایجنسی اے این آئی نے جمعہ کو حکام کے حوالے سے بتایا کہ ہندوستان میں اب تک کوویڈ 19 کے نئے قسم کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے جس میں بڑی تعداد میں تغیرات ہیں ۔

دوسری جانب حکومت ہند نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک ایڈوائزری جاری کی ہے کہ وہ جنوبی افریقہ اور دیگر خطرے والے ممالک سے آنے والے بین الاقوامی مسافروں کی سختی سے جانچ اور اسکریننگ کریں ۔صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے کہا کہ نئے تغیرات میں تبدیلیوں کی رپورٹوں کے صحت عامہ پر سنگین اثرات ہیں صحت کے سکریٹری راجیش بھوشن نے جمعرات کو دیر گئے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو جاری کردہ ایک خط میں کہا اس قسم میں بہت زیادہ تبدیلیوں کی اطلاع ہے۔