Two day Doha formal talk between Emirate Islami delegation and US envoy start

دوحہ:امارت اسلامیہ کے وفد کے ارکان اور امریکہ کے نمائندے برائے افغانستان کے درمیان مذاکرات آج ( ہفتہ) دوحہ میں شروع ہوگئے۔امارت اسلامیہ کی جانب سے ابلاغی ذرائع کے لیے جاری ایک بیان کے مطابق امارات کے قائم مقام وزیر خارجہ کی قیادت میں اماراتی وفد یورپی یونین کے نمائندوں سے ملاقات کر نے ایک روز پہلے ہی قطر پہنچ چکا تھا۔وفد میں صحت عامہ، تعلیم، خزانہ کی وزارتوں کے حکام اور مرکزی بینک اور قومی سلامتی کے ڈائریکٹوریٹ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان احمد اللہ واثق نے کہا کہ یہ افغانوں کے ساتھ بامعنی سفارتی تعلقات کا آغاز ہونا چاہیے، اور اس سلسلے میں کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جانا چاہیے۔

پاکستان نے ان مذاکرات کو خوش آئند بتایا اور امید ظاہر کی کہ اس سے افغانستان کی خراب صوترتحال میں بہتری ّئے گی۔پاکستانی وزارت خارجہ نے کابل اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے آغاز کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو طالبان کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا پیغام واضح ہے، ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرایا جانا چاہیے اور افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ افغانستان کے انسانی بحران اور معاشی تباہی کا دنیا پر بڑا اثر پڑے گا۔ لہٰذا، بین الاقوامی برادری کو انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے امن، سلامتی اور استحکام کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے افغانستان کے ساتھ مثبت انداز میں مشغول ہونا چاہیے۔کچھ لوگ اس اجلاس کے انعقاد کو اہم سمجھتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومت کو ایسے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کار لطیف نظری نے کہا کہ ہم اس ملاقات کے نتائج سے زیادہ توقع نہیں کر سکتے، کیونکہ امریکی اپنی خارجہ پالیسی کے لیے معاشی آلات کو استعمال کر رہے ہیں۔روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کا 28 واں اجلاس آئندہ ہفتے منعقد ہوگا اور اس میں افغانستان کی صورتحال ایجنڈے میں ہوگی۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ2 دسمبر کو، لاوروف سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں او ایس سی ای کی وزارتی کونسل کے 28ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔ سیاسی، اقتصادی، ماحولیاتی اور انسانی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ علاقائی تنازعات کے مسائل کا حل اور افغانستان کی صورتحال میں پیش رفت بھی اس ملاقات کے ایجنڈے کا حصہ ہو گی۔