Egypt sentences 22 terror convicts to death by hanging

قاہرہ :(اے یو ایس ) مصر میں دہشت گردی کے 54 حملوں بشمول سابق وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملہ میں ملوث پائے گئے 22 عسکریت پسندوں کو پھانسی دے دی گئی ۔ ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) کو یہ بات مصر کے ایک عدالتی ذریعے نے بتائی ہے۔ان افراد پر 54 دہشت گرد حملوں کا جرم ثابت ہونے کے بعد مصر کی عدالت نے یہ سزا سنائی تھی۔ ان حملوں میں ایک سینئر پولس افسر کا قتل اور سابق وزیر داخلہ محمد ابراہیم پر ناکام قاتلانہ حملہ بھی شامل ہے۔

مصر میں موت کی سزا پھانسی ہوتی ہے۔ اس نوعیت کے عدالتی حکم کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔ پھانسی کی سزا پانے والوں میں ایک سابق پولیس افسر بھی شامل ہے۔جن 22 مجرموں کو پھانسی دی گئی ہے ان کا تعلق انصار بیت المقدس گروپ سے ہے، جس نے 2014 میں داعش کے ساتھ حلف وفاداری اٹھایا تھا۔یہ فیصلہ اپیلز کی سماعت کرنے والی عدالت نے سنایا، جو مصر میں اپیل کی اعلیٰ ترین عدالت ہے۔ اسی کیس میں 118 افراد کی قید کی سزا بھی سنائی گئی جن میں کئی برس سے لے کر عمر قید تک کی سزا شامل ہے۔فروری 2018 میں فوج اور پولیس نے سینا کے شمالی علاقے سمیت ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,073 مشتبہ عسکریت پسند اور درجنوں سیکورٹی اہل کار ہلاک ہوئے۔

اس ماہ کے اوائل میں مصر نے اسرائیل کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا کہ داعش عسکریت پسندوں کو علاقے سے باہر نکالنے کے لیے سرحدی قصبے رفاہ میں مزید فوجی تعینات کیے جائیں گے۔انصار بیت المقدس کے جنگجو گروپ کی قیادت اسپیشل فورس کا ایک سابق افسر آشام عشماوی کرتا تھا اور یہ مصر میں ایک انتہائی مطلوب ملزم تھا۔ یہ اپنے عسکریت پسند گروپ سے اس وقت الگ ہوگیا جب گروپ نے القاعدہ کو چھوڑ کر داعش سے وفاداری کا اعلان کیا۔

یہ بھی جمعرات کو دی جانے والی پھانسی کے ان22 مجرموں کے ساتھ اسی کیس میں شامل تھا، مگر یہ 2018 میں بھاگ کر مشرقی لیبیا چلا گیا تھا، جہاں یہ پکڑا گیا اور بعد میں اسے مصر کے حوالے کر دیا گیا۔ مارچ 2020 میں اس کا جرم ثابت ہونے پر اسے پھانسی دے دی گئی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مصر، ایران اور چین کے بعد دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں پھانسی کی سزا دی جاتی ہے۔ صرف 2020 میں مصر میں کم از کم 107 افراد کو موت کی سزا دی گئی۔