Japan PM Kishida voices concern over human rights issues in China

ٹوکیو: جاپانی وزیر اعظم فومیہ کشیدا نے جمعہ کو تقریباً 50 ایشیائی اور یورپی ممالک کے رہنماؤں کے ایک ورچوئل اجلاس میں اپنے ریمارکس کے دوران چین میں انسانی حقوق کے مسائل پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ کیوڈو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کشیدا نے دو روزہ سربراہی اجلاس کے موقع پر ہانگ کانگ کے ساتھ ساتھ شمال مغربی چین کے سنکیانگ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ جاپانی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ بحیرہ جنوبی چین کے حوالے سے مشرق میں جمود کو تبدیل کرنے کی یکطرفہ کوششوں کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور بظاہر چین کی فوجی تیاری پر تنقید کرتے ہیں۔

گذشتہ دنوں منعقد اس ورچوئل سربراہی اجلاس کے پہلے دن یورپی ممالک کے رہنماؤں نے انسانی حقوق اور دیگر مسائل پر چین اور دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ رہنماو¿ں نے میانمار کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، جہاں فوج نے رواں سال فروری میں آنگ سان سوچی کی قیادت میں ایک سویلین حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔دوسری طرف اے ایس ای ایم کے رہنماو¿ں نے حکمران عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہ وہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسوسی ،جو ملک میں اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ثالثی کر نے والے ان کے خاص سفیر کو قبول کرے۔

جاپانی اشاعت نے آسیان کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ یہ بتانے کے بعد کہ صرف ایک ‘غیر سیاسی نمائندہ’ ہی حصہ لے سکتا ہے ، میانمار نے اے ایس ای ایم سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ اے ایس ای ایم گروپ میں ایشیا اور یورپ کے تقریباً 50 ممالک شامل ہیں۔ ملاقات کے دوران، علاقائی تنازعات کا خاص طور پر ذکر کرنے کے بجائے، بحیرہ جنوبی چین کے رہنماو¿ں نے بین الاقوامی قانون اور جہاز رانی کی آزادی کی بنیاد پر تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت کا ذکر کیا۔