New Covid variant called omicron not Xi to avoid offending Chinese ruler

نیویارک: عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او)کی جانب سے جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے کورونا کے ایک نئی قسم کے ویرینٹ کوامیکرون کا نام دینے سے ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ نئی قسم کے نام میں یونانی حروف تہجی کے دو حروف کو چھوڑنے سے ڈبلیو ایچ او پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔ دراصل ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے یونانی حروف تہجی کے حروف کے مطابق کورونا کے نئے نام رکھا ہے لیکن اس بار ڈبلیو ایچ او نے یونانی حروف تہجی کے حروف تہجی این یو اور ایکس آئی کو چھوڑ دیا ہے۔ اب تک ڈبلیو ایچ او وائرس کے فارمیٹس کو سادہ زبان میں بیان کرنے کے لیے حروف تہجی کی ترتیب (الفا، بیٹا، گاما، ڈیلٹا وغیرہ)پر عمل پیرا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ایک ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے دونوں الفاظ کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا ہے۔ دراصل، ڈبلیو ایچ او نے چینی صدر جن پنگ کو بدنام ہونے سے بچانے کے لیے یہ الفاظ چھوڑے ہیں۔ اگلی قسم کا نام یونانی حروف تہجی کے مطابق ایکس آئی رکھا جانا تھا اور ایکس آئی چین کے صدر کے نام میں بھی آتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جمعہ کو ہونے والے عالمی ادارہ صحت کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وائرس کا نام این یو اس لئے نہیں رکھا جائے گا کیونکہ لوگ اسے نیوسمجھ سکتے ہیں اور ایسی صورت حال میں الجھن کا خطرہ ہے۔اس کے بعد شی کو بھی چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ اسے کسی خاص خطے کی بدنامی کا خدشہ تھا۔

وبا کے آغاز سے ہی ڈبلیو ایچ او پر الزام لگائے جاتے رہے ہیں کہ وہ چین کے دبا ؤمیں کام کر رہا ہے لیکن اب شی جن پنگ کے خوف سے اس نے کورونا کا نام دینے کا گھپلہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے دنیا ایک بار پھر ڈبلیو ایچ او کے کام کرنے پر سوال اٹھانے لگی ہے۔اس ویرینٹ کا پہلا کیس جنوبی افریقہ میں پایا گیا ہے۔ تاہم اب تک اس کے کیسز ہانگ کانگ، اسرائیل اور بوٹسوانا میں پائے گئے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق یہ ویرینٹ بہت تیزی سے پھیلتاہے۔ اس کے حقیقی خطرات کا ابھی تعین ہونا باقی ہے۔ موجودہ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ویرینٹ دوبارہ انفیکشن کے خطرے کو بڑھاتاہے۔