Tribal elder shot dead in Afghanistan

کابل: افغانستان کے مغربی صوبے نمروز میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک معمر شخص ہلاک ہوگیا۔ ڑنہوا کے مطابق، حاجی سید احمد، ایک بزرگ قبائلی رہنما کو جمعہ کے روز گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ صوبائی دارالحکومت جرنج کے ایک نجی ہسپتال کے سربراہ خالد ہوتک نے تصدیق کی کہ احمد کو دو گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ایک اور واقعے میں طالبان نے افغانستان کے صوبے ہرات میں ایک نوجوان ڈاکٹر کو قتل کر دیا۔

خامہ پریس کے مطابق، مقتول کے اہل خانہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک ڈاکٹر جس کی شناخت 33 سالہ امرالدین نوری کے نام سے ہوئی ہے، ہرات میں پولیس چوکی پر نہ رکنے کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نوری جس کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی، کا ایک چھوٹا پرائیویٹ میڈیکل کلینک تھا۔15 اگست کو دارالحکومت کابل پر قبضہ کرنے کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد غیر ملکی کارکنوں اور افغان اتحادیوں کا بڑے پیمانے پر انخلا شروع ہوا۔

طالبان نے اقتدار میں آنے سے پہلے افغانستان کے عوام کو ان کے جان و مال کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اس طرح کا واقعہ طالبان کے دعوو¿ں کی نفی کرتا ہے۔