UNICEF calls for urgent action to avoid further loss of life at sea

نیویارک: افغانستان میں اقوام متحدہ کے ادارے فنڈ برائے اطفال( یونیسیف )کی رابطہ کاری کی سربراہ سمانتھا مورٹ نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان کی نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔مورٹ کا کہنا تھا کہ یونیسیف سمیت دیگر امدادی اداروں کو افغانستان میں بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ان اداروں کو شدید سردی سے قبل افغان عوام تک امداد پہنچانا ہوگی۔

مورٹ کے مطابق یونیسیف چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے اور پاکستانی سرزمین سے افغانستان میں امداد پہنچا رہا ہے لیکن ہر روز سردی بڑھ رہی ہے، پہاڑوں پر برف باری ہو گئی ہے، دیہی علاقوں تک پہنچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اب ان علاقوں تک امدادی سامان پہنچانے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے۔گزشتہ ہفتے، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان نے خبردار کیا تھا کہ ملک “انسانی تباہی کے دہانے پر ہے۔ 38 ملین کی آبادی میں سے 22 فیصد پہلے ہی قحط کے قریب ہیں اور دیگر 36 فیصد کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

سمانتاھ مورٹ نے بتایا،غربت کی سطح حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے، خاندانوں کو مایوس کن فیصلے کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مورٹ نے یہ بھی بتایا کہ افغانستان میں ملین سے زیادہ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں ان میں سے بھی اکثریت لڑکیوں کی ہے۔